کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 288
ج: ہاں دونوں طرح درست ہے۔ قنوت وتر قبل از رکوع کی دلیل ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے۔ نسائی اور ابن ماجہ میں ہے: (( عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ أَنَّ رَسُوْلَ ا للّٰه صلی ا للّٰه علیہ وسلم کَانَ یُوْتِرُ بِثَلاَثِ رَکْعَاتٍ وَیَقْنُتُ قَبْلَ الرُّکُوْعِ)) [1] [’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تین وتر پڑھتے اور دعائِ قنوت رکوع سے پہلے پڑھتے تھے۔ ‘‘] اور قنوت وتر بعد از رکوع کی دلیل ہے۔ حسن بن علی رضی اللہ عنہ والی حدیث چنانچہ مستدرک حاکم میں ہے: (( إِذَا رفعت رأسی ولم یبق إلا السجود))امام بیہقی نے اسی روایت کو بواسطہ حاکم اپنی سنن کبریٰ میں روایت فرمایا ہے۔ صاحب نیل الاوطار لکھتے ہیں : (( ففی بعض طرق الحدیث عند البیہقی التصریح بکونہ بعد الرکوع ، وقال: تفرد بذلک أبوبکر بن شیبۃ الحزامی ، وقد روی عنہ البخاری فی صحیحہ ، وذکرہ ابن حبان فی الثقات ، فلا یضر تفردہ)) [2] اگر کوئی صاحب فرمائیں محدث دوران شیخ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ إرواء الغلیل میں لکھتے ہیں : (( قولہ فی روایۃ الحاکم: إذا رفعت رأسی ولم یبق إلا السجود۔ فی ثبوتہ نظر کما سبق بیانہ فی آخر الحدیث (۴۲۶))) تو ان کی خدمت میں مؤدبانہ گزارش ہے کہ محدث دوران شیخ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ ہی حدیث نمبر: ۴۲۶ کی تخریج و تشریح کے آخر میں فرماتے ہیں : (( ینبغی أن یتأمل قولہ فی ھذا الطریق: إذا رفعت رأسی ولم یبق إلا السجود۔ فقد رأیت فی الجزء الثانی من فوائد أبی بکر أحمد بن الحسین بن مہران الأصبھانی تخریج الحاکم لہ قال: ثنا محمد بن یونس المقری قال: ثنا الفضل بن محمد البیہقی الخ۔ قلت: فذکرہ بسندہ ولفظ ابن مندۃ وفیہ الزیادۃ ، وابن یونس المقری ترجمہ الخطیب فی تاریخہ (۳؍۴۴۶) ووثقہ ، ولھذا مالت نفسی إلی ترجیح ھذا اللفظ بعد ثبوت ھذہ المتابعۃ۔ واللّٰہ أعلم۔ ۱ھ)) (( قلت: إن الشیخ ناصر الدین الألبانی رحمہ ا للّٰه تعالیٰ رحمۃ واسعۃ قد نسی فی قولہ: فی ثبوتہ نظر الخ۔ قولہ قبل: ولھذا مالت نفسی إلی ترجیح ھذا اللفظ بعد ثبوت ھذہ المتابعۃ۔ ولم نجد لہ عزما ، فسبحان من لا یضل ولا ینسی۔ واللّٰہُ أعلم)) اگر کوئی صاحب فرمائیں کہ محدث وقت شیخ البانی… رحمہ اللہ .....نے لکھا ہے: (( فإن قولہ: أن أقول إذا [1] نسائی ؍ کتاب قیام اللیل ؍ باب کیف الوتر بثلاث، ابن ماجہ ؍ اقامۃ الصلاۃ ؍ باب ماجاء فی القنوت قبل الرکوع وبعدہ [2] نیل الأوطار ؍ ابواب صلوٰۃ التطوع ؍ باب وقت صلاۃ الوتر والقراء ۃ فیھا والقنوت