کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 285
وتر، قیام رمضان ، قیام اللیل اور تہجد س: ایک سلام سے تین وتر پڑھے جاسکتے ہیں یا نہیں ؟ (محمد یوسف ، چہل کلاں ) ج: تین وتر پڑھنے کے دو طریقے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں ۔ 1۔دو رکعت پڑھ کر التحیات ، دُرود اور دعائیں پڑھنے کے بعد سلام پھیر دے اور ایک رکعت الگ سلام کے ساتھ پڑھے۔ صحیح مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء سے فراغت کے بعد اور فجر سے پہلے پہلے گیارہ رکعات نماز پڑھتے ۔ ہر دو رکعت پر سلام پھیرتے۔ [1]صحیح بخاری میں ہے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز پڑھی ، پھر دو رکعت ، پھر دو رکعت، پھر دو رکعت، پھر دو رکعت، پھر دو رکعت ، پھر وتر۔ یہ تیرہ رکعات تھیں ۔‘‘ [2] 2۔مستدرک حاکم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تین وتر پڑھتے صرف آخر میں بیٹھتے۔ حافظ ذہبی نے بھی تلخیص میں امام حاکم کی تائید کی ہے اور اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ تین وتر کا تیسرا طریقہ مغرب کی نماز کی طرح والا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ۔ واللہ اعلم۔ ۱ ؍ ۹ ؍ ۱۴۲۳ھ س: تین وتر بغیر تشہد یعنی اکٹھے پڑھنا سنت ہے یا نہیں ۔ اور کیا تین وتر اکھٹے پڑھنے والی روایت ضعیف ہے؟ (ظفر اقبال ، نارووال) ج: تین وتر اکٹھے بغیر تشہد کے پڑھنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔ چنانچہ مستدرک حاکم میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تین وتر پڑھتے: (( لاَ یَقْعُدُ إِلاَّ فِیْ آخِرِھِنَّ))یہ حدیث ضعیف نہیں ۔ یہ تین وتر کو ایک سلام سے پڑھنے کا طریقہ ہے۔ تین وتروں کو دو سلام کے ساتھ پڑھنا بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔ [ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک رکعت وتر پڑھتے (آخری) دو رکعتوں اور ایک رکعت کے درمیان (سلام پھیر کر) بات چیت بھی کرتے۔ [ابن أبی شبیۃ ۲؍ ۲۹۱ وابن ماجۃ، حدیث نمبر: ۱۱۷۷] ابن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر کی دو اور ایک رکعت میں سلام سے فصل کرتے۔ [3] ] ۱۹ ؍ ۱۱ ؍ ۱۴۲۱ھ [1] مسلم ؍ صلاۃ المسافرین ؍ باب صلاۃ اللیل وعدد رکعات النبی صلی اللّٰه علیہ وسلم فی اللیل [2] بخاری ؍ کتاب الوضوء ؍ باب قراء ۃ القرآن بعد الحدث وغیرہ ، مسلم ؍ صلاۃ المسافرین ؍ باب الدعاء فی صلاۃ اللیل وقیامہ [3] ابن حبان، حدیث : ۶۷۸