کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 284
والوں کے لیے صاف و ستھرا رکھنا ۔‘‘]مگر اس حدیث میں جمع مقصود نہیں ۔ واللہ اعلم۔ ۲۸؍۱؍۱۴۲۲ھ س: وقال الشافعی و أبو یوسف لا باس بالتطوع نصف النہار یوم الجمعۃ خاصۃ و حجتہم حدیث أبی ہریرۃ أن رسول اللّٰه صلی ا للّٰه علیہ وسلم نہی عن الصلاۃ حتی تزول الشمس الا یوم الجمعۃ۔[1] ج: ’’ اور کہا شافعی اور ابو یوسف رحمہما اللہ نے کوئی حرج نہیں خاص جمعہ کے دن نصف النہار کے وقت نفل پڑھنے میں اور ان کی دلیل ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا تھا حتی کہ سورج ڈھل جائے مگر جمعہ کے روز۔‘‘ [حَافظ ابن قیم رحمہ اللہ نے زاد المعاد، ج:۱ میں جمعۃ المبارک کے ۳۳ خصائل و فضائل بیان فرمائے ہیں اور گیارہویں فضیلت یہ ہے کہ زوال شمس نصف النہار کے وقت جمعہ کے دن نماز مکروہ نہیں ہے اور دلیل میں یہ حدیث پیش کی گئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ جو شخص جمعہ کو نہائے اور جس قدر پاکی حاصل ہو سکے کرے پھر تیل یا اپنے گھر سے خوشبو لگائے او ر مسجد کو جائے دو آدمیوں کے درمیان راستہ نہ بنائے پھر اپنے مقدر کی نماز پڑھے پھر دورانِ خطبہ خاموش رہے تو اس کے گزشتہ جمعہ سے لے کر اس جمعہ تک کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں ۔‘‘[2] یہاں نماز سے مانع نصف النہار کو نہیں بلکہ امام کے نکلنے کو نماز سے مانع قرار دیا گیا ہے ۔ تو معلوم ہوا نصف النہار کے وقت جمعہ کے دن نماز پڑھنی مکروہ نہیں ہے۔] ۹؍۱۰؍۱۴۲۱ھ س: نمازِ عید کے بعد اجتماعی دعا کرنا سنت سے ثابت ہے۔ جبکہ حیض و نفاس والیوں کو بھی دعا میں شریک ہونے کا حکم ہے اور کیا مسجد میں نماز عید پڑھنے کی صورت میں مسجد میں تحیۃ المسجد پڑھے جائیں گے یا ویسے ہی بیٹھ جائیں ؟ صحیح احادیث کی روشنی میں جواب دیویں ۔ شکریہ۔(ظفر اقبال ، نارووال) ج: آپ لکھتے ہیں ’’ جبکہ حیض و نفاس والیوں کو بھی دعا میں شریک ہونے کا حکم ہے‘‘ تو دعاء کو تو جناب خود ہی تسلیم فرما رہے ہیں البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ اُٹھانا اس دعاء میں بھی ثابت نہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان: ((إِذَا دَخَلَ أَحَدُکُمُ الْمَسْجِدَ فَلْیَرْکَعْ رَکْعَتَیْنِ قَبْلَ أَنْ یَجْلِسَ)) آپ کی پیش کردہ صورت کو بھی متناول و شامل ہے لہٰذا دو رکعت تحیۃ المسجد پڑھے یا کھڑا رہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھنے سے پہلے دو رکعت پڑھنے کا حکم دے رہے ہیں ۔ ۲۳؍۶؍۱۴۱۳ھ [1] أخرجہ الشافعی:۱؍۵۲ و ابراہیم بن محمد شیخ الشافعی و اسحاق بن عبداللّٰه ابن أبی فروۃ متروکان [2] بخاری؍الجمعۃ؍باب الدھن للجمعۃ حدیث:۸۸۳