کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 278
تأسیس قواعد اسلام اور تہدیم قواعد شرک والی بات تو آپ غور فرمائیں نبوت سے لے کر فتح مکہ تک تقریباً بائیس سال کا عرصہ بنتا ہے آیا اس عرصہ میں آپ نے تاسیس و تہدیم کا مذکور کام نہ کیا؟ کیوں نہیں ! ضرور کیا۔ سوچیے بدر، اُحد ، خندق ، حدیبیہ اور خیبر کے مغازی کس لیے تھے؟ تو فتح مکہ کے موقع پر انیس دن قیام والی روایات میں سے کوئی ایک روایت بھی اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ مکہ مکرمہ پہنچتے ہی یا پہنچنے سے قبل ہی آپ نے وہاں انیس دن قیام کا ارادہ بنالیا تھا۔ (( من ادعی فعلیہ البیان والبرھان)) لہٰذا بات بالکل واضح ہے کہ دوران سفر چار دن سے زائد عرصہ ارادہ بناکر قیام کی صورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قصر ثابت نہیں ۔ ثبوت ارادہ کے بغیر قیام کی صورت میں بیس دن سے زیادہ قصر کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ۔ واللہ اعلم۔ ۱۱ ؍ ۳ ؍ ۱۴۲۲ھ س: عرض یہ ہے کہ ہم کئی ساتھی ہر روز ملازمت کے سلسلہ میں مختلف شہروں (لاہور، شاہ کوٹ ، مریدکے ، گجرات وغیرہ) سے گوجرانوالہ آتے ہیں ۔ صبح کی نماز گھر پر جبکہ ظہر اور بعض اوقات عصر کی نماز دفتر میں ہی ادا کرنا پڑتی ہے۔ مغرب کی نماز دورانِ سفر ادا ہوتی ہے۔ دورانِ سفر والی نماز تو ہم قصر کرلیتے ہیں ۔ معاملہ مقام ملازمت والی نماز ظہر کا ہے، یا پھر کبھی کبھار عصر کی نماز۔ بعض ساتھی فرماتے ہیں کہ یہ بھی قصر کرلیا کرو، فضیلت ہے۔ لیکن کچھ کا خیال ہے کہ کسی معروف عالم سے پوچھ لیا جائے۔ اس میں بہتری ہے۔ ہم آپ کی خدمت میں مذکورہ معاملہ پیش کرتے ہیں اور گزارش کرتے ہیں کہ کتاب و سنت کی روشنی میں تفصیل سے ہماری رہنمائی فرمادیں ۔ اللہ آپ کو اجر دے گا۔ ان شاء اللہ۔ 1۔ظہر کی نماز مکمل یا قصر فضیلت کس میں ہے؟اگر دفتر میں پڑھنا پڑے۔ (محمد اشرف وڑائچ، سپرنٹنڈنٹ بورڈ آف ایجوکیشن، گوجرانوالہ) ج: صحیح بخاری، صحیح مسلم اور دیگر کتب حدیث کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دورانِ سفر کسی مقام پر ارادہ بناکر ٹھہرے تو آپ سے چار دن سے زیادہ مدت نماز قصر کرنا ثابت نہیں اور تردد کی صورت میں بیس دن سے زیادہ نماز قصر کرنا ثابت نہیں ۔ لہٰذا آپ لوگوں نے مقام ملازمت پر ارادہ بناکر چار دن یا چار دن سے کم ٹھہرنا ہے ، تو آپ نماز قصر پڑھیں اور اگر آپ نے مقام ملازمت پر ارادہ بناکر چار دن سے زیادہ ٹھہرنا ہے تو مقام ملازمت پر پہنچتے ہی نماز پوری پڑھیں قصر نہ کریں ۔ اور اگر مقام ملازمت پر پہنچ گئے ہیں ، مگر تردد ہے آج جاتا ہوں ، کل جاتا ہوں تو اس تردد کی صورت میں آپ زیادہ سے زیادہ بیس دن نماز قصر پڑھ