کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 277
درست نہیں ۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کے ساتھ اس آیت کریمہ کے عموم و اطلاق کی تخصیص و تقیید ہوچکی ہے۔ واللہ اعلم۔ ۲۴ ؍ ۵ ؍ ۱۴۲۱ھ س: میں نے آپ کا ایک مکتوبہ پڑھا جو ’’ ۲۴ ؍ ۵ ؍ ۱۴۲۱ھ ‘‘ کو مسافت قصر اور مدت قصر کے بارے میں رقم کیا گیا تھا۔ مضمون تشفی بخش تھا، لیکن اس میں سے ایک بات سمجھ میں نہیں آسکی، اس لیے کہ فقہ السنہ میں لکھا ہے کہ: (( وحمل ھذہ الآثار علی اَنَّ رسول ا للّٰه صلی ا للّٰه علیہ وسلم واصحابہ لم یُجْمِعُوا الاقامۃ البتۃ بل کانو یقولون: الیوم نخرج غدا نخرج وفی ھذا نظر لا یَخْفٰی فان رسول ا للّٰه صلی ا للّٰه علیہ وسلم فتح مکۃ وھی کما ھی وأقام فیھا یؤسس قواعد الاسلام ویھدم قواعد الشرک ویمھد امرما حولھا من العرب ومعلوم قطعا ان ھذا یحتاج الی اقامۃ ایام ولا یتاتی فی یوم واحد ولا یومین۔ الخ)) [1] [’’ امام احمد فرماتے ہیں جب کسی نے چار روز اقامت کی نیت کرلی ، وہ نماز پوری پڑھے گا اور اگر اس سے کم کی نیت کی تو قصر کرے گا۔ انہوں نے ان تمام روایات کو اس بات پر محمول کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے اقامت کی بالکل نیت نہ کی تھی ، بلکہ وہ یہ کہتے تھے کہ ہم آج نکلیں گے، کل نکلیں گے۔ یہ بات محل نظر ہے جو کہ مخفی نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح فرمایا وہ جس طرح کا تھا ویسے ہی تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں اسلام کی بنیادیں قائم کرنے اور شرک کی بنیادیں گرانے، نیز اردگرد کے عرب کے لیے آپ راستہ ہموار کرنے کو بیٹھے تھے۔ یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ اس میں کئی دن ٹھہرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ یہ کام ایک یا دو دن میں نہیں ہوسکتا۔] مندرجہ بالا عبارت کے مطالعہ سے مجھے اس مسئلہ میں کافی تشویش پیدا ہوگئی ہے۔ لہٰذا شفقت فرماتے ہوئے اس بات کی وضاحت کرکے مشکور فرمائیں ۔ اور ان دلائل کا محاکمہ کریں ۔ ( ابوبکر عرفان جاوید بن محمد اسلم ، حویلی لکھا) ج: آپ نے فقہ السنۃ سے جو عبارت نقل فرمائی وہ محض خطابت و شعر پر مبنی ہے نہ اس میں کوئی آیت لکھی گئی، نہ ہی حدیث اور نہ ہی عقل و واقع کی کوئی بات۔ دیکھیں آپ نے احادیث میں پڑھا ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی علاقہ فتح فرماتے، تو وہاں تین دن قیام کرتے۔ [2]اب فتح مکہ والے واقعہ کو آپ کے اس اصول سے مستثنیٰ بنانے کی کیا دلیل ہے؟ باقی انیس دن قیام والی روایات میں ارادہ بناکر قیام کا کہیں ذکر نہیں ۔ رہی [1] فقہ السنۃ ؍ السید سابق؍ کتاب الصلاۃ ، صلاۃ المسافر [2] ابو داؤد ؍ المجلد الثانی ؍ کتاب الجھاد ؍ باب فی الامام یقیم عند الظہور علی العدو لعرصتھم