کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 274
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ۔ چار ذوالحجہ صبح کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ معظمہ پہنچے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو علم تھا کہ ہم نے آٹھ تاریخ کو مکہ معظمہ سے منی روانہ ہونا ہے ، تو یہ چار دن کا عرصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارادہ بناکر مکہ مکرمہ میں ٹھہرے اور نماز قصر کرتے رہے۔ رہے آپ کے دیگر اسفار تو ان میں آپ کی کسی مقام پر مدت اقامت ارادۂ اقامت بناکر تھی۔ کسی نص سے ثابت نہیں ظواہر بھی اس چیز پر دلالت نہیں کرتے۔ بعض اہل علم نے اس کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے، مگر وہ کوئی ایک بھی پتے کی بات بیان نہ فرماسکے۔ رہی مسافر کے تردد والی صورت کہ آج واپس چلا جاتا ہوں ، کل واپس چلا جاؤں گا تو اس صورت میں عام علماء کرام یہی فرماتے ہیں کہ مدت مقرر نہیں چاہے مہینہ ٹھہرا رہے۔ چاہے سال قصر کرتا رہے، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسی صورت میں بیس دن سے زیادہ ٹھہرنا ثابت نہیں ۔ اب تردد والی صورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیس دن سے زیادہ کسی مقام پر ٹھہرتے تو قصر کرتے یا پوری پڑھتے، اس کا اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو علم نہیں ۔ اس لیے تردد والی صورت میں بھی مسافر کو اگر کسی مقام پر بیس دن سے زیادہ عرصہ ٹھہرنا پڑے تو بیس دن کے بعد نماز پوری پڑھے، قصر نہ کرے۔ باقی آیت کریمہ: ﴿ وَاِذَا ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ فَلَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاۃِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ یَّفْتِنَکُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ط﴾[النساء:۱۰۱][’’ جب تم سفر پر جارہے ہو تو تم پر نمازوں کے قصر کرنے میں کوئی گناہ نہیں ، اگر تمہیں ڈر ہو کہ کافر تمہیں ستائیں گے۔‘‘ ]کے عموم و اطلاق کو پیش نظر رکھ کر مسافت قصر اور مدت قصر کو ختم کرنا درست نہیں ۔ اولا یہ آیت کریمہ صلاۃ خوف اور قصر ہیئت و کیفیت کے متعلق ہے، قصر کمیت و عدد کے متعلق نہیں ۔ صاحب أضواء البیان لکھتے ہیں : (( قال بعض العلماء: المراد بالقصر فی قولہ: أن تقصرو۔ فی ھذہ الآیۃ قصر کیفیتھا لا کمیتھا ، ومعنی قصر کیفیتھا: أن یجوز فیھا من الأمور مالا یجوز فی صلاۃ الأمن۔ کأن یصلی بعضھم مع الإمام رکعۃ واحدۃ ویقف الإمام حتی یأتی البعض الآخر فیصلی معھم الرکعۃ الأخری ، وکصلاتھم ایماء رجالا ورکبانا وغیر متوجھین إلی القبلۃ ، فکلُّ ھذا من قصر کیفیتھا ، ویدل علی أن المراد ھو ھذا القصر من کیفیتھا قولہ تعالیٰ بعدہ یلیہ مبینا لہ: وإذا کنت فیھم فأقمت لھم الصلاۃ الخ۔))