کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 271
(۶)ایک شخص دوسرے ملک میں کام کرتا ہے وہ پانچ سال بعد گھر آتا ہے۔ (۷)ایک استاد یا طالب علم بمع اہل و عیال کسی مدرسہ یا کالج میں رہ رہا ہے ایک یا دو ماہ کے بعد گھر جاتا ہے۔ یہ لوگ اپنی ملازمت ، تجارت، تعلیم وتعلم اور مسؤلیت والی جگہ پر نمازِ قصر ادا کریں یاپوری پڑھیں ؟ قرآن و سنت کی روشنی میں وضاحت فرماکر عند ا للّٰه ماجور ہوں ۔ (محمد اسلم برق ، بہاولپور) ج: آپ کے سوال لکھنے میں تو سات ہیں ، مگر دو باتوں کو خوب سمجھ لینے سے ان ساتوں سوالوں کے جواب واضح ہوجاتے ہیں وہ دو باتیں یہ ہیں : (۱) مسافت سفر ۔ (۲) مدت قصر۔ اس لیے نیچے ان دو چیزوں کا تذکرہ کیا جاتا ہے بتوفیق ا للّٰه تبارک وتعالیٰ وعونہ۔ ٭ مسافت قصر تین فرسخ ہے۔ سید سابق رحمہ اللہ تعالیٰ فقہ السنۃ میں لکھتے ہیں : (( روی احمد ، ومسلم و أبو داود ، والبیہقی عن یحیی بن یزید قال: سألت أنس بن مالک عن قصر الصلاۃ ، فقال أنس: کان النبی صلی ا للّٰه علیہ وسلم إذَا خرج مسیرۃ ثلاثۃ أمیال أوفراسخ یصلی رکعتین۔ قال الحافظ ابن حجر فی الفتح: وھو أصح حدیث ورد فی بیان ذلک ، وأصرحہ۔ والتردد بین الأمیال والفراسخ ید فعہ ما ذکرہ أبو سعید الخدری قال: کان رسول ا للّٰه صلی ا للّٰه علیہ وسلم إذا سافر فرسخا یقصر الصلاۃ: رواہ سعید بن منصور ، وذکرہ الحافظ فی التلخیص وأقرہ بسکوتہ عنہ)) [۱ھ (۱؍۲۸۴)] [’’احمد مسلم ابو داؤد اور بیہقی نے یحییٰ بن یزید سے بیان کیا ہے فرماتے ہیں میں نے أنس بن مالک سے نمازِ قصر کے متعلق سوال کیا۔ انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم تین میل یا تین فرسخ کی مسافت پر نکلتے تو دورکعت پڑھتے۔ [1] حافظ ابن حجر فتح الباری میں فرماتے ہیں اس کی وضاحت میں صحیح ترین روایت یہی ہے رہا میل اور فرسخ کا تردد تو یہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی اس صحیح حدیث سے ختم ہوجائے گا۔ وہ فرماتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک فرسخ (۳ میل) کے سفر پر نکلتے تو نماز قصر کرتے۔ [2] اس روایت کو سعید بن منصور نے اور حافظ ابن حجر نے التلخیص الحبیرمیں ذکر کیا ہے اور اس پر اپنے سکوت سے صحت کی تصدیق کی ہے۔ [1] مسلم ؍ صلاۃ المسافرین ؍ باب صلاۃ المسافرین وقصرھا۔ سنن ابی داؤد ، حدیث:۱۲۰۱ [2] مصنف ابن ابی شیبۃ:۲۴۴]