کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 269
آپ کے سر پر ہاتھ رکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا ہے اے عبداللہ! میں نے کہا کہ مجھے پہنچا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں بیٹھ کر نماز پڑھنا، آدھی نماز کے برابر ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں سچ ہے، مگر میں تم لوگوں کے برابر نہیں ہوں ۔‘‘] [1] 3۔تین وتر پڑھنے کے دو طریقے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں : ۱۔تین وتر ایک سلام سے پڑھے جائیں ۔ دوسری رکعت پہ تشہد نہ بیٹھا جائے۔ مستدرک حاکم میں ہے: (( یُوتِرُ بِثَلاَثٍ لاَ یَقْعُدُ إِلاَّ فِیْ آخِرِ ھِنَّ))رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تین وتر پڑھتے صرف ان کے آخر ہی میں بیٹھتے۔ ۲۔تین وتر دو سلام کے ساتھ پڑھے جائیں ۔ دو رکعت پر التحیات ، درود اور دعائیں پڑھ کر سلام پھیر دیا جائے اور ایک رکعت الگ سے ایک سلام کے ساتھ پڑھی جائے۔ صحیح مسلم میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت گیارہ رکعات پڑھتے، ہر دو رکعت پر سلام پھیرتے تو واضح ہے ،آخر میں ایک رکعت رہ جائے گی جو الگ سلام سے پڑھی جائے گی۔[2] عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک رات میں اپنی خالہ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر ٹھہرا تو اس رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت پڑھیں ، پھر دو رکعت اس طرح چھ دفعہ انہوں نے ذکر فرمایا، پھر وہ فرماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر پڑھا جبکہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ہی فرماتے ہیں اس رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرہ رکعات پڑھی تھیں ، تو لامحالہ ایک وتر آپ نے ایک الگ سلام کے ساتھ پڑھا تھا۔ [3] دعائے قنوت وتر میں ہاتھ اٹھانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ، البتہ قنوت نازلہ میں ہاتھ اٹھانے کا ذکر حدیث میں ملتا ہے۔ س: ظہر کے فرضوں کے بعد چار رکعت اور عشاء کے فرضوں کے بعد چار رکعت نماز کی دلیل پیش فرمائیں ؟ (محمد بشیر بورے پیارے) ج: ظہر کے فرضوں کے بعد چار رکعات کی حدیث ابو داؤد میں موجود ہے۔ عشاء کے فرضوں کے بعد چار رکعات کی حدیث صحیح بخاری میں موجود ہے۔ [ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ جو شخص ظہر (کے فرضوں ) سے پہلے چار [1] مسلم ؍ کتاب صلوٰۃ المسافرین ؍ باب جواز النافلۃ قائما و قاعد او فصل بعض الرکعۃ قائما وبعضھا قاعداً [2] مسلم ؍ صلاۃ المسافرین ؍ باب صلاۃ اللیل وعدد رکعات النبی صلی ا للّٰه علیہ وسلم فی اللیل [3] بخاری ؍ کتاب الوضوء ؍ باب قراء ۃ القرآن بعد الحدث وغیرہ ، کتاب الأذان ؍ اذا قام الرجل عن یسار الامام فحوّلہ الامام الی یمینہ لم تفسد صلاتھما