کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 265
پڑھتے دیکھا یہ ان کا علم ہے۔ دونوں میں کوئی تعارض نہیں ۔ رہا آپ کا عصر کے بعد نفل نماز پڑھنے سے منع فرمانا تو وہ درست ہے، لیکن اس منع والی حدیث سے جو نمازیں آپ نے عصر کے بعد پڑھیں یا ان کے پڑھنے کی اجازت دی وہ اس حدیث سے مستثنیٰ ہیں منع نہیں ۔ تفصیل کے لیے اس فقیر إلی اللّٰه الغنی کے رسالہ ’’ تعداد رکعات ‘‘ کا مطالعہ فرمائیں ۔ ۳۰ ؍ ۴ ؍ ۱۴۲۴ھ س: عصر کے بعد نوافل پڑھنا کیسا ہے؟ یعنی سببی بھی نہ ہوں ۔ مطلقاً نفلی نماز کا حکم بالتفصیل ذکر فرمائیں ؟ (محمد ہاشم یزمانی ، جامعہ سلفیہ فیصل آباد) ج: صحیح بخاری ، باب مایصلی بعد العصر الخ میں ہے: ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کے بعد دو رکعات پڑھا کرتے تھے۔‘‘ تو ان دو رکعات ، قضاء فوائت اور سببی نماز کے علاوہ نماز نفل عصر کے بعد ممنوع ہے۔ واللہ اعلم ۔ [سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’عصر کے بعد نماز نہ پڑھو، مگر یہ کہ سورج بلند ہو۔‘‘][1] اس حدیث سے ظاہر ہے کہ عصر کے بعد نماز کی ممانعت مطلق نہیں ہے۔ ۲۱ ؍ ۳ ؍ ۱۴۲۴ھ س: کیا اس دور میں بھی عصر کے بعد دو رکعات پڑھی جاسکتی ہیں اور ان دو رکعات کی ابتدا کب ہوئی۔ کیا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصہ ہے اور ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا والی روایت قابل احتجاج ہے یا نہیں ؟ (شاہد محمود) س: ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی صحیح بخاری والی حدیث (( رَکْعَتَانِ لَمْ یَکُنْ رَسُولُ ا للّٰه صلی ا للّٰه علیہ وسلم یَدَعُھُمَا سِرًّا وَّلاَ عَلاَنِیَۃً رَکْعَتَانِ قَبْلَ صَلاَۃِ الصُّبْحِ ، وَرَکْعَتَانِ بَعْدَ العَصْرِ)) [2] [’’ دو رکعتوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی ترک نہیں کیا۔ پوشیدہ ہویا عام لوگوں کے سامنے صبح کی نماز سے پہلے دو رکعات اور عصر کی نماز کے بعد دو رکعات۔‘‘] کے پیش نظر یہ بندۂ فقیر إلی اللہ الغنی کہتا ہے، آج بھی عصر کے بعد یہ دو رکعات پڑھی جاسکتی ہیں ، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ثابت ہیں اور آپ کا خاصہ بھی نہیں ۔ رہا یہ مسئلہ کہ ان دو رکعات کی ابتداء کب ہوئی؟ تو یہ تسلیم کرلینے سے کہ ان کی ابتداء مشغولیت والے واقعہ کے بعد ہوئی۔ آج ان دو رکعات کے پڑھنے کے اثبات کی نفی نہیں ہوتی۔ تو ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا عصر کے بعد والی جن دو رکعات کے متعلق فرمارہی ہیں : (( لَمْ یَکُنْ [1] ابو داود ؍ الصلاۃ ؍ باب من رخص فیھما اذا کانت الشمس مرتفعۃ [2] صحیح بخاری ؍ کتاب مواقیت الصلاۃ ؍ باب مایصلی بعد العصر من الفوائت ونحوھا