کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 264
سکتے ہیں ۔ جیسا کہ احادیث صحیحہ ان چیزوں پر دلالت کرتی ہیں ۔ اور یہ نمازیں منع والی احادیث سے مستثنیٰ اور مخصوص ہیں ۔ ۵ ؍ ۵؍ ۱۴۲۴ھ س: عصر کی نماز کے بعد نفل نماز پڑھ سکتا ہے یا نہیں ؟ اگر آدمی نفل نماز پڑھ سکتا ہے تو دلائل سے ثابت کریں ؟ (حافظ امین اللہ محمدی ، چک چٹھہ) ج: صحیح بخاری میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کے بعد دو رکعت نماز پڑھا کرتے تھے۔ [1] اسی طرح سبب والی نماز بھی عصر کے بعد پڑھ سکتے ہیں ۔ مثلا دخول مسجد کی دو رکعت اور طواف کی دو رکعت۔ عصر کے بعد منع والی احادیث سے یہ نمازیں مستثنیٰ ہیں ۔ ۲۳ ؍ ۴ ؍ ۱۴۲۴ھ س: (( نَھٰی عَنِ الصَّلاَۃِ بَعْدَ الْعَصرِ حَتّٰی تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَعَنِ الصَّلاَۃِ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ)) [2] [’’عصر کے بعد نماز منع ہے سورج غروب ہونے تک اور صبح کے بعد نماز منع ہے سورج طلوع ہونے تک۔‘‘]سوال یہ ہے کہ اگر کوئی بندہ مسجد میں ان اوقات میں آئے تو کیا کرے یعنی رکعتیں پڑھ لے یا کھڑا رہے؟ اور جس بندے کا یہ روزانہ کا معمول ہو کہ وہ ان اوقات میں درس و تدریس کے لیے مسجد میں جاتا ہے۔ فجر اور عصر کی نماز کے بعد تو وہ اپنا معمول چھوڑ دے یا وہ ان منہی عنہ اوقات میں رکعتیں ادا کرلے بیٹھنے سے قبل؟ (عبداللہ بن ناصر ، پتوکی) ج: کچھ نمازیں نہی والی احادیث سے مستثنیٰ ہیں ۔ دیکھئے صحیح بخاری کتاب مواقیت الصلاۃ باب مایصلی بعد العصر من الفوائت ونحوھا الخ اس سلسلہ میں صحیح بات یہ ہے کہ فرض نمازیں نمازِ جنازہ اور اسباب والی نفل نمازیں نہی والی احادیث سے مخصوص و مستثنیٰ ہیں ، مسجد کی دو رکعت اور طواف کی دو رکعت بھی ان مخصوص اور مستثنیٰ نمازوں میں شامل ہیں ۔ ۲۴ ؍ ۱۱ ؍ ۱۴۲۵ھ س: آپ کہتے ہیں کہ عصر کے بعد دو رکعت نماز ادا کرنی چاہیے، جبکہ بخاری شریف میں حدیث ہے.....حمران بن ابان سے سنا وہ معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں ، انہوں نے کہا تم ایسی نماز پڑھتے ہو کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ نماز پڑھتے نہیں دیکھا، بلکہ آپ نے اس سے منع کیا۔ یعنی عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھنے سے۔[بخاری کتاب مواقیت الصلوٰۃ] (محمد یونس شاکر) ج: انہوں نے نہیں دیکھا یہ ان کا علم ہے۔ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دو رکعتیں [1] بخاری ؍ کتاب مواقیت الصلاۃ ؍ باب مایصلی بعد العصر من الفوائت ونحوھا [2] مختصر صحیح مسلم ؍ باب النھی عن الصلاۃ بعد العصر وبعد الصبح عن ابی ہریرہ