کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 258
بسم ا للّٰه الرحمٰن الرحیم ﴿ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ * مَلِکِ النَّاسِ *اِلٰہِ النَّاسِ *مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ *الَّذِیْ یُوَسْوِسُ فِیْ صُدُوْرِ النَّاسِ *مِنَ الْجِنَّۃِ وَالنَّاسِ *﴾ [الناس:۱۱۴؍۱ ۔۶] ’’ اللہ کے نام سے (شروع کرتا ہوں ) جو بہت رحم کرنے والا نہایت مہربان ہے۔‘‘ ’’ کہو میں پناہ مانگتا ہوں لوگوں کے رب کی۔ لوگوں کے مالک کی۔ لوگوں کے( اصل) معبود کی۔ اس وسوسہ ڈالنے والے کے شر سے جو بار بار پلٹ کر آتا ہے۔ جولوگوں کے سینوں (دلوں ) میں وسوسے (اور برے خیالات) ڈالتا ہے۔ خواہ وہ جنوں میں سے ہو یا انسانوں میں سے۔‘‘ 9۔حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ’’ جو شخص ہر نماز کے بعد آیۃ الکرسی پڑھے تو اس کو بہشت میں داخل ہونے سے سوائے موت کے کوئی چیز نہیں روکتی۔‘‘ [1] مطلب یہ ہے کہ آیۃ الکرسی پڑھنے والا موت کے بعد سیدھا جنت میں جائے گا۔ آیۃ الکرسی ﴿ ا للّٰه لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ ج اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ ج لَا تَاْخُذُہٗ سِنَۃٌ وَّلَا نَوْمٌ ط لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ط مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَہٗٓ اِلاَّ بِاِذْنِہٖ ط یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْھِمْ وَمَا خَلْفَھُمْ ج وَلَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْئٍ مِّنْ عِلْمِہٖٓ اِلَّا بِمَا شَآئَ ج وَسِعَ کُرْسِیُّہُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ ج وَ لَا یَوْدُہُ حِفْظُھُمَا ج وَ ھُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ ﴾ [البقرۃ:۲:۲۲۵] ’’ اللہ کے سوا کوئی (سچا) معبود نہیں ۔ وہ زندہ ہے۔ ہمیشہ قائم رہنے والا ہے۔ وہ اونگھتا ہے، نہ سوتا ہے۔ اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے۔ اس کی اجازت کے بغیر کون اس کے پاس (کسی کی) سفارش کرسکتا ہے؟ وہ جانتا ہے ، جو کچھ ان سے پہلے گزرا اور جو کچھ ان کے بعد ہوگا اور لوگ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرسکتے (معلوم نہیں کرسکتے) مگر جتنا وہ چاہتا ہے۔ (اتنا علم جسے چاہے دے دیتا ہے۔) اس کی کرسی نے آسمانوں اور زمین کو گھیر رکھا ہے اور ان دونوں کی حفاظت اس [1] نسائی ، فی عمل الیوم واللیلۃ ۱۰۰ اسے ابن حبان اور منذری نے صحیح کہا ہے۔