کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 257
(( سُبْحَانَ اللّٰہِ))۳۳ بار(( اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ))۳۳ بار(( اللہ أَکْبَرُ)) ۳۳ بار اور ایک بار(( لاَ إِلٰہَ إِلاَّ ا للّٰه وَحْدَہٗ لاَ شَرِیْکَ لَہٗ ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ)) ’’ اللہ (ہر عیب سے) پاک ہے ۔ ساری تعریف اللہ کی ہے۔ اللہ سب سے بڑا ہے۔ اللہ کے سوا کوئی (سچا) معبود نہیں ، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اسی کے لیے ساری بادشاہت اور اسی کے لیے ساری تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر خوب قدرت رکھنے والا ہے۔‘‘ اس کے گناہ بخشے جائیں گے اگرچہ دریا کی جھاگ کے مانند ہوں ۔ [1] حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ جو شخص فرض نماز کے بعد ((سُبْحَانَ اللّٰہِ))۳۳ بار (( اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ))۳۳ بار (( اللہ أَکْبَرُ)) ۳۴ بار کہے گا وہ نامراد نہیں ہوگا۔[2] 8۔حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں ہر (فرض) نماز کے بعد معوذات پڑھا کروں ۔ [3] معوذات (اللہ کی پناہ میں دینے والی سورتیں ) یہ ان سورتوں کو کہتے ہیں جن کے شروع میں (( قُلْ أَعُوْذُ)) کا لفظ ہے، انہیں معوذتین بھی کہا جاتا ہے، یعنی قرآنِ پاک کی آخری دو سورتیں جو حسب ذیل ہیں : بسم اللّٰه الرحمٰن الرحيم ﴿ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ صلی ا للّٰه علیہ وسلم مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ* وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ رضی اللّٰه عنہا وَمِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِ *وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ ﴾ [الفلق:۱۱۳:۱۔ ۶] ’’ اللہ کے نام سے (شروع کرتا ہوں ) جو بہت رحم کرنے والا نہایت مہربان ہے۔‘‘ ’’ کہو میں پناہ (حفاظت) مانگتا ہوں صبح کے رب کی۔ ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے۔ اور اندھیری رات کے شر سے جب کہ وہ چھاجائے۔ اور گرہوں میں پھونکنے والیوں کے شر سے (یعنی جادو ، ٹونا کرنے ، کرانے والوں کے شر سے۔) اور حاسد کے شر سے جبکہ وہ حسد کرے۔‘‘ [1] مسلم ؍ المساجد ؍ باب استحباب الذکر بعد الصلاۃ ، حدیث:۵۹۷ [2] مسلم ، ایضاً ، حدیث:۵۹۶ [3] ابو داؤد ؍ ابواب الوتر ؍ باب فی الاستغفار ، حدیث: ۱۵۲۳، اسے امام حاکم (۱؍۲۵۳) ذہبی، ابن خزیمہ اور ابن حبان (حدیث: ۲۳۴۷) نے صحیح کہا ہے۔