کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 255
تنبیہ: دعائے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں اضافہ: جس طرح دعائے اذان میں لوگوں نے اضافہ کر رکھا ہے ، اسی طرح اس دعامیں بھی لوگوں نے زیادتی کی ہوئی ہے۔ وہ زیادتی ملاحظہ ہو: (( اَللّٰھُمَّ أَنْتَ السَّلاَمُ وَمِنْکَ السَّلاَمُ))رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ ہیں ۔ آگے: (( وَإِلَیْکَ یَرْجِعُ السَّلاَمُ حَیِّنَا رَبَّنَا بِالسَّلاَمِ وَأَدْخِلْنَا دَارَ السَّلاَمِ)) کا اضافہ کررکھا ہے۔ کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ شروع اور اخیر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ اور درمیان میں خود اپنی طرف سے دعائیہ جملے بڑھا کر حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں زیادتی کی ہوئی ہے۔ معاذ اللہ! کیا آپ یہ جملے بھول گئے تھے یا دعا ناقص چھوڑ گئے تھے، جس کی تکمیل امتیوں نے کی ہے؟ اگر کوئی کہے کہ ان بڑھائے ہوئے جملوں میں کیا خرابی ہے، ان کا ترجمہ بہت اچھا ہے، آخر دعا ہی ہے اور اللہ ہی کے آگے ہے؟ گزارش ہے کہ انسان اپنی مادری یا عربی زبان وغیرہ میں جو دعا چاہے اپنے مالک سے کرے، جونسے جملے چاہے دعا میں استعمال کرے، کوئی حرج نہیں ۔ مگر حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں اپنی طرف سے الفاظ یا جملے زیادہ کرنے ناجائز ہیں ۔ ایسا کرنے سے دین کی اصل صورت قائم نہیں رہتی۔ 3۔حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: ’’ اے معاذ! اللہ کی قسم! میں تجھ سے محبت کرتا ہوں ۔‘‘ میں نے کہا میں بھی آپ سے محبت رکھتا ہوں ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( جب تو مجھ سے محبت رکھتا ہے ، تو میں تجھے وصیت کرتا ہوں کہ) ہر (فرض) نماز کے بعد یہ (دعا) پڑھنا نہ چھوڑنا: (( رَبِّ أَعِنِّیْ عَلٰی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ)) ’’ اے میرے رب! ذکر کرنے، شکر کرنے اور اچھی عبادت کرنے میں میری مدد کر۔‘‘ [1] 4۔حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر فرض نماز کے بعد کہتے تھے: (( لاَ إِلٰہَ إِلاَّ ا للّٰه وَحْدَہُ لاَ شَرِیْکَ لَہٗ ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ ، وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ ، اَللّٰھُمَّ لاَ مَانِعَ لِمَا أَعْطَیْتَ ، وَلاَ مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ ، وَلاَ یَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ)) ’’ اللہ کے سوا کوئی (سچا) معبود نہیں ہے، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے، اسی کے لیے بادشاہت ہے اور اسی کے لیے ساری تعریف ہے اور وہ ہرچیز پر قادر ہے۔ یا اللہ! تیری عطا کو کوئی روکنے والا نہیں اور تیری روکی ہوئی چیز کوئی عطا کرنے والا نہیں اور دولت مند کو ( اس کی) دولت تیرے [1] نسائی(السنن الکبریٰ) کتاب صفۃ الصلاۃ؍ باب نوع آخر من الدعاء ح:۱۲۲۶۔ أبو داؤد ؍ أبواب الوتر؍ باب فی الاستغفار، ابو داؤد کی روایت میں (رَبِّ) کی بجائے (اللّٰھُمَّ) کے الفاظ ہیں ۔