کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 252
الحنابلہ (۱؍۲۸۰) میں اسے وزیر ابن ہبیرہ حنبلی کا مذہب مختار بتایاہے، اور ابن رجب نے خود بھی اس سے اپنی رضا کا اظہار کیا ہے۔ تشہد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھنے کے بارے میں بہت سی حدیثیں آئی ہیں ، مگر ان میں سے کسی ایک حدیث میں بھی درود کے دوسرے تشہد کے ساتھ خاص ہونے کا ذکر نہیں ، بلکہ ساری حدیثیں عام ہیں ۔ جو دونوں تشہد کو شامل ہیں ۔ پہلے تشہد میں درود پڑھنے سے روکنے والوں کے پاس کوئی ایسی صحیح دلیل نہیں ہے۔ جو حجت بن سکے، اسی طرح جو لوگ تشہد اول میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھتے وقت ’’اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ‘‘سے زیادہ کچھ کہنا مکروہ سمجھتے ہیں ان کے پاس بھی سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی دلیل نہیں ، بلکہ ہم تو کہتے ہیں کہ جس نے صرف ’’اللھم صل علی محمد‘‘کہنے پر اکتفا کیا اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سابق (( قُوْلُوْا: اللھمّ صلی علی محمد وعلی آل محمد.....الخ)) کی بجا آوری نہیں کی۔[1] ۲۴ ؍ ۱ ؍ ۱۴۲۲ھ س: قال العلامۃ ابو الطیب محمد شمس الحق العظیم آبادی فی عون المعبود ذہب الشافعی إلی أن الصلوٰۃ فی القعدۃ الأخیرۃ فرض والجمھور علی أنھا سنۃ۔ والمعتمد عندنا الوجوب۔ وفی الحدیث قولوا استدل بذلک علی وجوب الصلاۃ علیہ صلی ا للّٰه علیہ وسلم بعد التشہد۔ [کتاب الصلوٰۃ عون المعبود ؍ باب الصلوٰۃ علی النبی صلی ا للّٰه علیہ وسلم بعد التشہد] وقال الشیخ عبیداللّٰہ المبارکفوری فی مرعاۃ بعد ذکر دلائل الفریقین والأحوط عندی وجوبھا۔ [مرعاۃ المفاتیح جکتاب الصلوٰۃ ؍ باب الصلوٰۃ علی النبی صلی ا للّٰه علیہ وسلم ] وقال الامام محمد بن علی بن محمد بن عبداللّٰہ الشوکانی فی نیل الأوطار بعد ذکر دلائل الفریقین والحاصل أنہ لم یثبت عندی من الأدلۃ ما یدل علی مطلوب القائلین بالوجوب۔ [نیل الأوطار ؍ باب ماجاء فی الصلاۃ علی رسول ا للّٰه صلی ا للّٰه علیہ وسلم ] أیھا الشیخ بیّن لی فی ھذہ المسئلۃ بیانا واضحاً بالدلیل من الکتاب والسنۃ ھل الصلوٰۃ علی النبی صلی ا للّٰه علیہ وسلم بعد التشہد واجب أم لا؟ والأجر عنداللّٰہ۔ )) (محمد مالک، جامعۃ محمدیۃ) ج: فقد سألتنی: ھل الصلاۃ علی النبی صلی ا للّٰه علیہ وسلم بعد التشہد واجبۃ أولا؟ فالجواب بتوفیق ا للّٰه الوھاب الذی بیدہ أزمۃ الصواب أن الصلاۃ علی النبی صلی ا للّٰه علیہ وسلم بعد التشہد [1] صفۃ صلاۃ النبی اردو محمد ناصر الدین البانی ، ص:۲۲۹