کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 250
درست ہے اور یہ روایت موقوف ہے۔ چنانچہ صحیح ابن خزیمہ کی بطریق عبدالأعلی روایت کے الفاظ ہیں : (( عَنْ أَبِیْہِ أَنَا عَبْدُ ا للّٰه بْنُ مَسْعُوْدِ أَنَّ رَسُوْلَ ا للّٰه صلی ا للّٰه علیہ وسلم عَلَّمَہُ التَّشَھُّدَ فِیْ الصَّلاَۃِ قَالَ: کُنَّا نَحْفَظُہُ عَنْ عَبْدِ ا للّٰه بْنِ مَسْعُوْدٍ کَمَا نَحْفَظُ حُرُوْفَ القُرْآنِ الوَاوَ وَالاَلِفَ ، فَإِذَا جَلَسَ عَلَی وَرِکِہِ الیُسْرَی قَالَ: اَلتَّحِیَّاتُ الخ)) [۱ ؍ ۳۴۸ ؍ ۷۰۲] پھر اس روایت کو درمیانے قعدے میں دُرود نہ پڑھنے کی دلیل بنایا جائے ، تو یہ آخری قعدے میں دُرود نہ پڑھنے کی بھی دلیل بنے گی، کیونکہ اس کے آخر میں یہ عبارت بھی موجود ہے: (( وَإِنْ کَانَ فِیْ آخِرِھَا دَعَابَعْدَ تَشَھُّدِہِ بِمَا شَآئَ ا للّٰه أَنْ یَّدْعُوَ ثُمَّ یُسَلِّمُ)) واللہ اعلم۔ [احادیث میں دُرود کی بڑی فضیلت وارد ہے۔ نماز میں اس کا پڑھناواجب ہے یا سنت؟ جمہور علمائے کرام اسے سنت سمجھتے ہیں ۔ اور امام شافعی اور بہت سے علماء واجب۔ ان کے نزدیک پہلے تشہد میں بھی دُرود پڑھنے کی وہی حیثیت ہے، جو آخری تشہد میں پڑھنے کی ہے۔ تاہم اس سے یہ واضح ہے کہ پہلے تشہد میں دُرود پڑھنا یقینا مستحب عمل ہے۔ اس کے لیے مختصر دلائل ملاحظہ فرمائیں ۔ ایک دلیل یہ ہے کہ مسند احمد میں صحیح سند سے مروی ہے کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ پر سلام کس طرح پڑھنا ہے؟ یہ تو ہم نے جان لیا (کہ ہم تشہد میں (( اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ))پڑھتے ہیں ۔) لیکن جب ہم نماز میں ہوں تو آپؐ پر درود کس طرح پڑھیں ؟ تو آپؐ نے درودِ ابراہیمی کی تلقین فرمائی۔ [الفتح الربانی ، ج:۴ ، ص: ۲۰ ، ۲۱] مسند احمد کے علاوہ یہ روایت صحیح ابن حبان، سنن کبریٰ ، بیہقی ، مستدرک حاکم ،ابن خزیمہ میں بھی ہے۔ اس میں صراحت ہے کہ جس طرح سلام نماز میں پڑھا جاتا ہے۔ یعنی تشہد میں اسی طرح یہ سوال بھی نماز کے اندر درود پڑھنے سے متعلق تھا؛ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے درود ابراہیمی پڑھنے کاحکم فرمایا۔ جس سے معلوم ہوا کہ نماز میں سلام کے ساتھ درود بھی پڑھنا چاہیے۔ اور اس کا مقام تشہد ہے۔ اور حدیث میں یہ عام ہے، ا سے پہلے یا دوسرے تشہد کے ساتھ خاص نہیں کیا گیا ہے۔ جس سے یہ استدلال کرنا صحیح ہے کہ (پہلے اور دوسرے) دونوں تشہد میں جہاں سلام پڑھا جاتا ہے۔ وہاں درود بھی پڑھا جائے۔ اور جن روایات میں تشہد اول کا بغیر درود کے ذکر ہے، انہیں سورۃ احزاب کی آیت: ﴿صَلُّوْا عَلَیْہِ وَسَلِّمُوْا ﴾کے نزول سے پہلے محمول کیا جائے گا۔ لیکن اس آیت کے نزول یعنی ۵ ہجری کے بعد جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کے استفسار پر درود کے الفاظ بھی بیان فرمادیئے تو اب نماز میں سلام کے ساتھ صلوٰۃ (درود شریف) کا پڑھنا بھی ضروری ہوگیا۔ چاہے وہ پہلا تشہد ہو