کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 248
س: تشہد میں بائیں بازو کو تان کر رکھنا اور دائیں میں خم رکھنا کیسا ہے؟ مندرجہ بالا سوالات کا جواب دیں اور عنداللہ ماجود ہوں ۔ (محمد ہاشم یزمانی) ج: بحوالہ ابی داؤد اور دارمی مشکاۃ میں ہے: (( عن وائل بن حجر عن رسول ا للّٰه صلی ا للّٰه علیہ وسلم قَالَ: ثُمَّ جَلَسَ ، فَافْتَرَشَ رِجْلَہُ الْیُسْرٰی وَوَضَعَ یَدَہُ الْیُسْرٰی عَلٰی فَخِذِہِ الْیُسْرٰی وَحَدَّ مِرْفَقَہُ الْیُمْنٰی عَلٰی فَخِذِہِ الْیُمْنٰی)) [الحدیث، باب التشہد ؍ الفصل الثانی] [1] [ ’’ وائل رضی اللہ عنہ نے کہا پھر آپؐ بیٹھ گئے تو بایاں پاؤں بچھالیا اور بایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھا اور دائیں کہنی کو دائیں ران سے اٹھا کر رکھا۔‘‘] ۲۹ ؍ ۷ ؍ ۱۴۲۳ھ س: نماز میں تشہد اولیٰ میں دُرود شریف واجب ہے ، یا غیر واجب۔ جو امام یا مقتدی قصداً پہلے تشہد میں دُرود نہ پڑھے تو نماز ہوجائے گی؟ (محمد یوسف ڈوگر) ج: اللہ تعالیٰ کا حکم ہے: ﴿ صَلُّوْا عَلَیْہِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا ﴾سلام تشہد ہے اور صلاۃ درود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں کا حکم دیا ہے۔ کتاب و سنت سے پہلے قعدہ میں دُرود کا نہ پڑھنا ثابت نہیں ۔ آیت کریمہ اور احادیث کا تقاضا یہی ہے کہ تشہد سلام کے ساتھ صلاۃ دُرود بھی ہو۔ دیکھئے نماز کے علاوہ مختصر سلام کے ساتھ بھی صلاۃ ہے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔ ۱ ؍ ۷ ؍ ۱۴۲۳ھ س: ہمارے ہاں ایک مولانا ہیں ، جن سے میں نے نماز کے تشہد میں دُرود پڑھنے کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ پہلے اور دوسرے تشہد میں یعنی دونوں تشہد میں دُرود پڑھنا لازمی ہے۔ اور اس کا حوالہ انہوں نے نسائی جلد اول کے باب نو رکعات وتر کیسے پڑھنے ہیں وہاں سے دکھلایا۔ میں نے عملاً ایسا کرنا شروع کردیا، مگر چند ایام کے بعد دوسرے مولانا نے فرمایا کہ پہلے تشہد میں تو دُرود نہیں پڑھنا چاہیے، دلیل کے مطالبے پر انہوں نے مسند احمد کا حوالہ دیا اور وہ حدیث والا صفحہ فوٹو کاپی مجھے دے دیا۔ اب مجھے نہیں علم کہ وہ حدیث صحیح ہے یا ضعیف۔ اس حدیث میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے تشہد کو بیان کیا ہے۔ آپ برائے مہربانی فرماکر بتائیں کہ آیا یہ حدیث درست ہے یا صحیح ہے ، یا پھر ضعیف ہے اور اس مسئلہ کا صحیح حل لکھ کر جلد از جلد روانہ کریں ۔ میں مسند احمد کا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ والی حدیث کی فوٹو کاپی والا صفحہ بھی آپ کو بھیج رہا ہوں ۔ آپ اس کی صحت کے متعلق بھی ضرور تحریر فرمائیں ۔ [1] ابو داود ؍ کتاب الصلاۃ ؍ باب کیف الجلوس فی التشہد