کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 247
تشہد کا بیان س: تورک کرنے کا صحیح طریقہ بتائیں ۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار ہوئے تو اس وقت تورک کرتے تھے؟ (شاہد سلیم ، لاہور) ج: تورک کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ نمازی آخری قعدہ میں اپنے دائیں قدم کو کھڑا کرلے اور بائیں قدم کو دائیں پنڈلی کے نیچے سے نکال کر زمین پر بیٹھ جائے۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ: ’’ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار ہوگئے تو اس وقت تورک کرتے تھے۔‘‘ ان لوگوں سے ان کے اس دعویٰ کی دلیل طلب فرمائیں ، مجھے تو کوئی ایسی بات معلوم نہیں ۔ ۶ ؍ ۶ ؍ ۱۴۲۱ھ س: ایک دن نمازِ فجر کی جماعت میں تشہد میں ایک شخص کے دائیں جانب والے شخص نے بایاں پاؤں دائیں جانب نکالا اور بائیں جانب والے شخص نے بھی بایاں پاؤں دائیں جانب نکالا، یعنی تورک کیا۔ سلام پھیرنے کے بعد درمیان والے شخص نے دائیں بائیں جانب والے دونوں شخصوں کو کہا کہ تم دونوں نے مجھے آہ و زار کردیا ہے۔ پاؤں اُس وقت نکالنا چاہیے جس وقت آدمی اکیلا نماز پڑھے کیا اُس شخص نے جو کچھ کہا ہے، قرآن و حدیث کے مطابق ہے؟ (محمد امین گرجاکھ، گوجرانوالہ) ج: صحیح بخاری ؍ کتاب الأذان ؍ باب سنۃ الجلوس فی التشہدمیں ہے ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم : (( فَإِذَا جَلَسَ فِی الرَّکْعَتَیْنِ جَلَسَ عَلٰی رِجْلِہِ الیُسْرٰی وَنَصَبَ الْیُمْنٰی ، وَإِذَا جَلَسَ فِی الرَّکْعَۃِ الآخِرَۃِ قَدَّمَ رِجْلَہُ الیُسْرٰی وَنَصَبَ الْاُخْرٰی ، وَقَعَدَ عَلٰی مَقْعَدَتِہٖ))[’’ دو رکعتوں میں بیٹھتے تو بایاں پاؤں بچھاکر بیٹھتے اور دایاں پاؤں کھڑا رکھتے، جب آخری رکعت میں بیٹھتے تو بایاں پاؤں آگے کرتے اور دایاں پاؤں کھڑا رکھتے، پھر اپنی نشست گاہ کے بل بیٹھ جاتے۔‘‘] تورک کا اکیلے یا امام کے ساتھ خاص ہونا کسی آیت یا ثابت حدیث میں وارد نہیں ہوا، پھر درمیانے قعدہ میں افتراش بھی اسی حدیث میں مذکور ہے، اگرتورک کو غیر مقتدی کے ساتھ خاص کیا جائے ، تو افتراش بھی غیر مقتدی کے ساتھ خاص ہوگا۔ وااللازم کما تری باقی اذیت پہنچانا دوسروں کو آہ و زار کرنا درست نہیں ، نہ تورک میں اور نہ ہی افتراش میں ۔