کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 243
پر بیٹھنا کیا یہ مسنون طریقہ ہے؟ (محمد یونس شاکر) ج: ہاں ! بین السجدتین بیٹھنے کا یہ طریقہ بھی مسنون ہے۔ [1] ۶ ؍ ۱ ؍ ۱۴۲۴ھ س: رکوع یا سجدہ میں نبیؐ یہ دعا پڑھتے تھے: (( سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ)) [2] ’’ اے ہمارے پروردگاراللہ توپاک ہے ہم تیری تعریف بیان کرتے ہیں یا الٰہی مجھے بخش دے۔‘‘ یہ دعا کتنی مرتبہ پڑھی جائے؟ ج: اس تسبیح (( سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ)) [3] کی تعداد والی کوئی آیت یا حدیث مجھے معلوم نہیں ۔ ۲۵ ؍ ۶ ؍ ۱۴۲۳ھ س: رکوع و سجود میں قرآن مجید کی کوئی دعائیہ آیت پڑھی جاسکتی ہے؟ (محمد یونس شاکر) ج: نہیں ! کیونکہ رکوع و سجود میں قرآن پڑھنا منع ہے۔ [رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خبردار! میں رکوع اور سجدے میں قرآن حکیم پڑھنے سے منع کیا گیا ہوں ۔ پس تم رکوع میں اپنے رب کی عظمت بیان کرو اور سجدے میں خوب دعا مانگو۔ تمہاری دعا قبولیت کے لائق ہوگی۔ ۶ ؍ ۱؍ ۱۴۲۴ھ س: رکوع اور سجدہ میں صرف ایک دعا ہی پڑھ سکتے ہیں یا دو تین اکٹھی بھی پڑھ سکتے ہیں ؟ (ظفر اقبال) ج: رکوع اور سجدہ کے اذکار و ادعیہ سے کوئی ایک ذکر و دعاء پڑھ لے فریضہ ادا ہوجائے گا، اگر دو یا تین یا زیادہ اذکار و ادعیہ اکٹھے پڑھ لے تو بھی گنجائش ہے، بہتر ہے کہ اذکار و ادعیہ جو ثابت ہیں ، انہیں مختلف اوقات میں بدل بدل کر پڑھتا رہے ، تاکہ تمام ثابت شدہ اذکار و ادعیہ عمل میں آتے رہیں ۔ ۵ ؍ ۱۱ ؍ ۱۴۲۵ھ س: سجدہ میں پڑھی جانے والی ادعیہ مختلف الفاظ میں کئی اسناد سے مروی ہیں ، تو سوال یہ ہے کہ کیا تمام ادعیہ مأثورہ ایک ہی سجدہ میں پڑھی جاسکتی ہیں یا ایک سجدہ میں ایک ہی دعا بار بار پڑھی جائے گی؟ (محمد ہاشم یزمانی) ج: ان ادعیہ کو ایک ہی سجدہ میں جمع کرنا ، سب کو پڑھنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تو ثابت نہیں ۔ البتہ بعض اہل [1] مسلم ؍ المساجد ؍ باب جواز الاقصاء علی العقبین [2] بخاری ؍ الاذان ؍ باب الدعاء فی الرکوع ، مسلم ؍ الصلاۃ ؍ باب ما یقال فی الرکوع [3] مسلم الصلاۃ ؍ باب النھی عن قراء ۃ القرآن فی الرکوع والسجود