کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 240
باندھنے کا ثبوت نہ ہونا۔ دیکھئے نمازِ جنازہ کے اندر میت کے لیے دعاء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اور میت کو دفن کرنے کے بعد قبر پر دعا بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔ اب کوئی شخص اگر کہے کہ نمازِ جنازہ سے سلام پھیرنے کے بعد اور دفن سے قبل بھی دعا کرنا چاہئے اور کرے۔ اور دلیل یہ پیش کرے کہ نمازِ جنازہ میں دعاء اور قبر پر دعا ان دو کے علاوہ کوئی حالت نہیں ملی ، تو آیا اس کی یہ دلیل صحیح ہوگی؟ نہیں ! ہرگز نہیں ۔ بلکہ یہ نہ ملنا دلیل ہے کہ اس مقام پر دعا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ۔ اسی لیے ہم لوگ اس موقع پر دعاء نہیں کرتے۔ تو آپ کے ذکر کردہ چار مقاموں پر ہاتھوں کی کیفیت خاص ثابت ہے۔ لہٰذا ان مقاموں میں اس کیفیت خاص کی پابندی کی جائے گی اور رکوع کے بعد والے قیا م میں وضع باندھنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ۔ لہٰذا ارسال اور چھوڑنے پر عمل کیا جائے گا۔ عام حالات میں چلتے پھرتے، نماز کے علاوہ کھڑے بیٹھے ہم خاص کیفیت وضع والی اختیار نہیں کرتے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ثابت نہیں تو بس اس مقام پر وضع کا ثابت نہ ہونا ارسال کی دلیل ہے۔ واللہ اعلم۔ ۱۲ ؍ ۵ ؍ ۱۴۲۴ھ سجدہ کا بیان س: عرض یہ ہے کہ مصنف عبدالرزاق کی ایک روایت عاصم بن کلیب عن ابیہ سے مروی ہے: (( دمقت النبی صلی ا للّٰه علیہ وسلم فرفع یدیہ فی الصلاۃ حین کبر وفیہ ثم اشار بسبابتہ ثم سجد فکانت یداہ حذو اذنیہ)) اس کی سند میں کچھ خرابیاں ہیں ۔ ایک یہ کہ اس میں سفیان ثوری مدلس ہے اور عن سے بیان کرتا ہے اور عبدالرزاق اس کو سفیان سے روایت کرنے میں شاذ ہے۔ جیسا کہ علامہ البانی رحمہ اللہ تعالیٰ نے ’’ تمام المنۃ ‘‘میں مفصل بحث کرکے یہ ثابت کیا ہے تو یہ چیز آپ کے گوش گزار کرتا ہوں کہ آپ ہمیں اپنے علم سے مستفید کرتے ہوئے، ان چیزوں کا مفصل جواب لکھ کر بھیج دیں ۔ (ثناء اللہ صدیقی ، مرکزطیبہ مریدکے) ج: آپ وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کی بین السجدتین رفع سبابہ والی حدیث بالاختصار لکھ کر فرماتے ہیں : ’’ اس کی سند میں کچھ خرابیاں ہیں ، ایک یہ کہ اس میں سفیان ثوری مدلس ہے اور عن سے بیان کرتا ہے اور عبدالرزاق اس کو سفیان سے روایت کرنے میں شاذ ہے۔ جیسا کہ علامہ البانی رحمہ اللہ نے تمام المنہ میں مفصل بحث کرکے یہ ثابت کیا ہے۔‘‘ آپ کا کلام ختم ہوا۔ اولاً آپ نے لفظ ’’کچھ خرابیاں ‘‘ استعمال فرمایا اور بعد میں خرابیاں