کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 238
کرنے کی بھی حدیث موجود ہے۔ [1] لہٰذا کندھوں کے برابر یا کانوں کی کونپلوں تک رفع الیدین کرنا چاہئے۔ اس سلسلہ میں سستی و کاہلی سے کام نہ لیا جائے۔ صحیح ابن خزیمہ وغیرہ میں ہے : ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سینے پر ہاتھ باندھا کرتے تھے۔‘‘ [2] اس لیے کوتاہی کرتے ہوئے شروع نماز میں سینے پر ہاتھ باندھ کر بعد میں سینے سے نیچے لے جانا درست نہیں ۔ ۲۵ ؍ ۶ ؍ ۱۴۲۳ھ رکوع کے بعد س: کیا رکوع کے بعد ہاتھ دوبارہ باندھنے چاہئیں یا کہ کھلے چھوڑے جائیں ؟ سید بدیع الدین شاہ راشدیؒ صاحب نے اس پر ایک کتاب بھی لکھی ہے۔ ایک حدیث ہے کہ نماز کے چار فرائض (حالتیں ) ہیں ۔ قیام، رکوع، سجدہ اور تشہد۔ اگر ہم ہاتھ چھوڑ دیں تو یہ پانچویں حالت ہوجائے گی۔ ایک اور حدیث ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ: ’’ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کے بعد اتنی لمبی دعا کی کہ ہم بھول گئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا ہے یا نہیں ؟‘‘ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے رکوع کے بعد ہاتھ باندھ لیے تھے، اسی لیے انہیں یاد نہ رہا کہ رکوع کیا ہے یا نہیں ۔ اگر ہاتھ چھوڑے ہوتے تو پتہ چل جاتا ہے کہ رکوع کرچکے ہیں ۔ کیا ان سے ہاتھ باندھنے کا جواز ملتا ہے۔؟ (محمد ابراہیم) ج: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں جو عام روایت پیش کی جاتی ہے اس سے خاص قیام قبل الرکوع مراد ہے۔ جیسا کہ وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کی مسند امام احمد والی مفصل روایت سے واضح ہے۔ سید بدیع الدین شاہ صاحب راشدی رحمہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کا جواب ان کے بڑے بھائی سید محب اللہ شاہ صاحب راشدی رحمہ اللہ تعالیٰ نے ان کی زندگی ہی میں دے دیا تھا۔ پانچویں حالت نہیں بنتی یہ قیام ہی میں شامل ہے۔ پھر نماز کے چار فرائض (حالتیں ) ہیں ۔ قیام، رکوع ، سجدہ اور تشہد۔ کوئی آیت نہیں اور نہ ہی کوئی حدیث ہے جس کو بنیاد بنایا جاسکے۔ پھر آپ لکھتے ہیں : ’’ ہم بھول گئے کہ آپ نے رکوع کیا ہے یا نہیں ؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا یہ قول کس کتاب میں ہے ؟ حوالہ دیں میرے علم میں نہیں ۔ ۱۳ ؍ ۱۰ ؍ ۱۴۲۱ھ [1] مسلم ؍ الصلاۃ ؍ باب استحباب رفع الیدین حذو المنکبین مع تکبیرۃ الاحرام والرکوع وفی الرفع من الرکوع وأنہ لا یفعلہ اذا رفع من السجود [2] ابن خزیمۃ: ۱؍ ۲۴۳ ، مسند أحمد :۵ ؍ ۲۲۶