کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 229
الرکوع))اس سے صرف اتنی بات ثابت ہوتی ہے کہ سجدہ کے ساتھ جب رکوع نہ ہو تو سجدہ ناقابل اعتداد ہے، اس شاہد بزعمہ میں یہ بالکل نہیں ہے کہ مدرکِ رکوع مدرکِ رکعت ہے نہ منطوقا اور نہ ہی مفہوما، تو شیخ صاحب کا عبدالعزیز بن رفیع والے اس طریق کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ والی حدیث کا شاہد بنانا درست نہیں ، چند منٹ کے لیے ہم تسلیم کرلیتے ہیں کہ یہ شاہد ہے مگر شیخ صاحب کا اس کو قوی قرار دینا صحیح نہیں ۔ کیونکہ قوی ہونے کی انہوں نے جو دلیل پیش فرمائی ہے وہ یہ ہے: (( فإن رجالہ کلھم ثقات))حالانکہ اس کے تمام رجال ثقات نہیں ، کیونکہ عبدالعزیز بن رفیع اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان ’’ رجل ‘‘ کا واسطہ ہے۔ جس کا صحابی ہونا ثابت نہیں تو لا محالہ وہ تابعی ہیں ۔ کیونکہ تابعی بسااوقات تبع تابعی سے بھی روایت کرلیتا ہے۔ جیسے صحابی بسااوقات تابعی سے روایت کرلیتے ہیں تو بہرحال یہ ’’ رجل ‘‘ تابعی ہو خواہ تبع تابعی مجہول ہے تو شیخ صاحب کا (( رجالہ کلھم ثقات))کہنا صحیح نہیں ہے۔ چند منٹ کے لیے ہم تسلیم کرلیتے ہیں کہ ’’ رجل ‘‘ تابعی ہو خواہ تبع تابعی ہے ثقہ تو یہ روایت ’’ رجل ‘‘ کے تابعی ہونے کی صورت میں اعم اغلب کے تحت مرسل اور تبع تابعی ہونے کی صورت میں اعم اغلب کے تحت معضل ٹھہری اور مرسل و معضل دونوں ضعیف ہیں ۔ لہٰذا شیخ صاحب کا اس کو قوی کہنا درست نہیں ۔ اگر یہ کہا جائے اعم اغلب کے تحت عبدالعزیزبن رفیع والی مرسل اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ والی موصول ضعیف دونوں مل کر حسن لغیرہ کے درجہ کو پہنچ جاتی ہیں ، تو جواب میں ہم عرض کریں گے، برسبیل تنزل اگر ہم اس بات کو تسلیم کرلیں تو بھی یہ حسن لغیرہ بنے گی نہ کہ حسن لذاتہ۔ نہ صحیح لغیرہ اور نہ ہی صحیح لذاتہ جبکہ شیخ صاحب اس کو صحیح لکھ رہے ہیں ، تو بہر حال شیخ صاحب کا یہ فیصلہ افراط سے خالی نہیں ۔ اگر کہا جائے کہ حسن لغیرہ تو آپ بھی تسلیم کرگئے ہیں گوبر سبیل تنزل ہی سہی اور حسن لغیرہ سے بھی تو احکام ثابت ہوجاتے ہیں تو شیخ صاحب کا بیان کردہ مسئلہ تو درست ٹھہرا تو ہم جو اباًعرض کریں گے نہیں ہرگز نہیں ۔ تفصیل ثانیا کے بعد دیکھیں ۔ ثانیاً آپ پہلے پڑھ چکے ہیں کہ عبدالعزیز بن رفیع والی روایت مدرک رکوع مدرک رکعت ہونے پر دلالت نہیں کرتی اس سے تو صرف اتنی بات ثابت ہوتی ہے کہ سجدہ و سجود کے قابل اعتداد ہونے کے لیے رکوع ضروری ہے، رکوع کے بغیر سجود کا کوئی اعتداد و شمار نہیں ۔ اب یہ بھی یاد رکھیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ والی حدیث (( فاسجدوا ولا تعدوھا شیئا ، ومن أدرک رکعۃ فقد أدرک الصلاۃ))کی بھی مدرکِ رکوع کے مدرکِ رکعت ہونے پر دلالت نہیں ہے نہ منطوقاً اور نہ مفہوماً اس کا مدلول تو صرف اور صرف یہ ہے، جس نے رکعت پالی، اس نے نماز پالی۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ جس نے رکعت سے کم کو پایا اس نے نماز کو نہیں پایا اور مدرکِ رکوع مدرکِ رکعت سے کم پانے