کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 228
اللفظ الآخر الذی ذکرہ المؤلف وعزاہ لأبی داود فلا أعلم لہ أصلا ، لا عند أبی داود ولا عند غیرہ))[إِرواء الغلیل:۲؍۲۶۶] رہے پہلے لفظ تو أولا وہ اس سیاق میں ثابت ہی نہیں ۔ کیونکہ اس کی سند میں یحییٰ بن أبی سلیمان المدینی ہیں ۔ جس کی وجہ سے حدیث ضعیف ہے۔ چنانچہ شیخ البانی رحمہ اللہ امام حاکم کا فیصلہ ((صحیح الإسناد ویحیی بن أبی سلیمان من ثقات المصر یین))نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں : ((قلت: ووافقہ الذہبی والصواب ما أشار إلیہ البیہقی أنہ ضعیف لأن یحیی ھذا لم یوثقہ غیر ابن حبان والحاکم ، بل قال البخاری: منکر الحدیث وقال أبو حاتم: مضطرب الحدیث ‘‘ لیس بالقوی ، یکتب حدیثہ))[إِرواء الغلیل ۲؍۲۶] تو شیخ صاحب نے اعتراف فرمایا ہے کہ یہ حدیث اس سیاق کے ساتھ ضعیف ہے، مگر وہ اس سے قبل اس کو صحیح قرار دے چکے ہیں ۔ بدلیل تعدد طرق حالانکہ تعدد طرق سے حدیث کا صحیح یا حسن بن جانا کوئی قاعدہ کلیہ نہیں ۔ بلکہ بسااوقات تعدد طرق سے حدیث کے ضعف میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ جیسا کہ اہل علم پر مخفی نہیں تو اس مقام پر تعدد طرق اس حدیث کو حسن نہیں بناتا۔ چہ جائیکہ اس کو صحیح بنائے، کیونکہ جو طرق شیخ صاحب نے اس مقام پر ذکر فرمائے ہیں ، ان میں سے کچھ تو موقوف ہیں ، اور کچھ مرفوع جو موقوف ہیں وہ تو مقوی مرفوع نہیں ، کیونکہ اصول میں وضاحت سے لکھا گیا ہے کہ کسی عالم کا قول یا عمل حدیث کے موافق آجائے تو وہ حدیث کے ثابت ہونے کی دلیل نہیں ۔ اس طرح کسی عالم کا قول یا عمل حدیث کے خلاف آجائے تو وہ حدیث کے ضعیف ہونے کی دلیل نہیں ۔ لہٰذا آثار موقوفہ سے حدیث کو تقویت پہنچانے والی بات تو کافور ہوگئی۔ رہے مرفوع طرق تو ان میں ایک کے متعلق تو خود شیخ صاحب نے صراحت فرمادی ہے کہ وہ شاہد بننے کے قابل نہیں ، باقی دو مرفوع طریق رہ جاتے ہیں ۔ جن سے تقویت کی اُمید وابستہ کی جاسکتی ہے۔ ان دو میں سے بھی ایک کے متعلق خود شیخ صاحب لکھتے ہیں : (( ولم یذکر أحد منھم ھذہ اللفظۃ ’’ قبل أن یقیم الإمام صلبہ ‘‘ ولعل ھذا من کلام الزہری فأدخلہ یحیی بن حمید فی الحدیث ولم یبینہ)) پھر اس یحییٰ کو دار قطنی نے ضعیف بھی کہا ہے تو اس سے بھی تقویت حاصل نہ ہوسکی باقی صرف ایک مرفوع طریق رہ گیا۔ عبدالعزیز بن رفیع والا جس کے متعلق شیخ صاحب فرماتے ہیں : (( وھو شاہد قوی فإن رجالہ کلھم ثقات))مگر یہ واقع میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی مذکور حدیث کاشاہد ہے ہی نہیں ، کیونکہ شاہد اور مالہ شاہد کا ایک چیز پر دلالت کرنا ضروری ہے، جبکہ اس مقام پر صورتِ حال اس طرح نہیں ، کیونکہ شاہد بزعمہ کے الفاظ ہیں : (( إذا جئتم والإمام راکع فارکعوا وإن کان ساجدا فاسجدوا ولا تعتدوا بالسجود إذا لم یکن معہ