کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 227
مطلوب پر دلالت نہیں کرتیں ۔ خلاصہ پیش کردیا ہے تفصیل کے لیے جزء القراء ۃ للإمام البخاری ؍کتاب القراء ۃ للبیہقی ؍ تحقیق الکلام اور خیر الکلام وغیرہا کا مطالعہ فرمائیں ۔ ۴ ؍ ۲ ؍ ۱۴۲۳ھ س: اگر کوئی شخص امام کو رکوع کی حالت میں پائے اور وہ بھی رکوع میں امام کے ساتھ مل جائے تو کیا اس شخص کی یہ رکعت شمار کی جائے گی؟ رکوع میں مل کر اس کو رکعت شمار کرنے والے یہ روایت پیش کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم نماز کے لیے آؤ اور امام رکوع میں ہو تو رکوع کرو اور اگر سجدے میں ہو تو سجدے میں مل جاؤ۔ جس سجدے کے ساتھ رکوع نہ ہو ، اس کو مت شمار کرو۔[بیہقی] (محمدیونس شاکر، نوشہرہ ورکاں ) ج: صحیح احادیث تو مدرکِ رکوع کے مدرکِ رکعت ہونے پر دلالت نہیں کرتیں اور جو روایت مرفوعہ مدرکِ رکوع کے مدرکِ رکعت ہونے پر دلالت کرتی ہیں ، وہ ثابت نہیں ، جو روایت آپ نے بحوالہ بیہقی نقل فرمائی وہ بھی کمزور ہے، تو درست بات یہی ہے کہ مدرکِ رکوع مدرکِ رکعت نہیں ۔ [رکوع میں ملنے سے رکعت نہیں ہوتی۔ ابو قتادۃ رضی اللہ عنہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ جب تم نماز کے لیے آؤ تو جو کچھ امام کے ساتھ پاؤ پڑھ لو اور جو رہ جائے اسے (امام کے سلام پھیرنے کے بعد) پورا کرلو۔ [1] خاتمۃ الحفاظحافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں اس حدیث سے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ جس نے امام کو رکوع میں پایا، اس کی وہ رکعت شمار نہیں ہوگی۔ کیونکہ اس حدیث میں جو رہ گیا ہے، اس کے پورا کرنے کا حکم ہے اور جو آدمی رکوع میں ملا ہے، اس سے قیام و قرات رہ گئے ہیں اور یہی قول ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ایک جماعت کا ہے۔ [فتح الباری ] ۲۴ ؍ ۱۲ ؍ ۱۴۲۱ھ مدرکِ رکوع مدرک ِرکعت ہے؟ شیخ البانی رحمہ اللہ نے إرواء الغلیل ، ج:۲ ؍ ص:۳۶۰ پر رقم:۴۹۶ میں ، منار السبیل کے صفحہ: ۱۱۹سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ایک مرفوع حدیث دو لفظوں کے ساتھ نقل فرمائی ہے: (( ومن أدرک رکعۃ فقد أدرک الصلاۃ))(( من أدرک الرکوع فقد أدرک الرکعۃ))اب ظاہر بات ہے کہ دوسرے لفظ مطلوب ’’ مدرکِ رکوع مدرکِ رکعت ہے‘‘ پر دلالت تو کرتے ہیں ، مگر یہ لفظ بے اصل ہیں ۔ چنانچہ شیخ البانی ہی لکھتے ہیں : (( وأما [1] صحیح بخاری ؍ کتاب الأذان ؍ باب ما ادرکتم فصلوا وما فاتکم فاتموا