کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 226
دو زائد پڑھتا ہے ، اگر نمازِ ظہر یا عصر یا عشاء ہو جبکہ مسؤلہ صورت میں بوجہ اقتداء صرف ایک رکعت زائد پڑھی گئی ہے ، اُٹھ کر پڑھی ہوئی رکعت کو بھی اگر شمار کر لیا جائے تو زائد رکعات دو ہی بنتی ہیں جن کے بوجہ اقتداء پڑھنے کی اصل موجود ہے۔ ۲۳؍۱۰؍۱۴۲۲ھ س: جس کی مغرب کی نماز رہ جائے اور جب مسجد میں پہنچے تو عشاء کی جماعت کھڑی ہو تو کیا کرے؟ (قاسم بن سرور) ج: جماعت میں شامل ہو جائے نیت صلاۃِ مغرب کی کرے ، امام کے ساتھ سلام نہ پھیرے ایک رکعت اُٹھ کر پڑھ لے ، تین فرض اور دو نفل ہو جائیں گے ۔ ان شاء اللہ تعالیٰ ۔ دیکھئے مسافر کی مقیم کی اقتداء دو رکعات بوجہ اقتداء زائد پڑھتا ہے جو شرعاً درست ہے تواس صورت مسؤلہ میں تو نمازی نے بوجہ اقتداء صرف ایک رکعت پڑھی ہے جو بطریق اولی درست ہے۔ ۷؍۷؍۱۴۲۳ھ س: امام مقیم ہے اور مقتدی مسافر ہے۔ ظہر کی نماز ہے اور چاروں رکعات پڑھی جاچکی ہیں ۔ صرف تشہد باقی ہے اور اس حال میں مسافر آکر ملتا ہے تو کیا وہ پوری نماز پڑھے گا یا قصر کرے گا؟ (محمد ہاشم نذیر احمد ،فیصل آباد) ج: یہ مدرک جماعت نہیں ۔ اس لیے بوجہ اقتدائے مسافر بالمقیم پوری نہیں پڑھے گا۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (( مَنْ اَدْرَکَ رَکْعَۃً مِنَ الصَّلاَۃِ فَقَدْ اَدْرَکَ الصَّلاَۃَ)) [1] ’’جس نے نماز کی ایک رکعت پالی اس نے نماز پالی۔‘‘ ۷ ؍ ۱۲ ؍ ۱۴۲۳ھ س: رکوع میں شامل ہونے سے رکعت ہوجاتی ہے یا نہیں ۔ دونوں طرف احادیث سے استدلال کیا جاتا ہے۔ وضاحت فرمائیں ؟ (کلیم انور ، مانسہرہ) ج: رکوع میں شامل ہونے سے رکعت نہیں ہوتی، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:(( لاَ صَلاَۃَ لِمَنْ لَّمْ یَقْرَأْ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ))[’’ جس شخص نے سورۂ فاتحہ نہیں پڑھی، اس کی نماز نہیں ۔ ‘‘][رواہ البخاری] [2] باقی مدرک رکوع کے مدرکِ رکعت ہونے کے سلسلہ میں جس قدر مرفوع روایات پیش کی جاتی ہیں ، ان میں سے جو اس مطلوب پر دلالت کرتی ہیں وہ تو صحیح نہیں کمزور ہیں اور ان میں سے جو صحیح ہیں وہ اس [1] بخاری ؍ کتاب مواقیت الصلاۃ ؍ باب من ادرک من الصلاۃ رکعۃ ، مسلم ؍ کتاب المساجد ؍ باب من ادرک رکعۃ من الصلاۃ ، ترمذی ؍ ابواب الصلاۃ ؍ باب فیمن یدرک من الجمعۃ رکعۃ [2] بخاری ؍ الأذان ؍ باب وجوب القراء ۃ للامام والماموم فی الصلوات کلھا