کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 225
س: ایک نمازی جماعت میں اس وقت شامل ہوتا ہے جب دو رکعتیں پڑھی جا چکی ہیں اب وہ جو نماز اما م کے ساتھ پڑھے گا وہ پہلی رکعتیں شمار کرے یا پچھلی ؟ (محمد یونس شاکر) ج :.....پہلی رکعتیں شمار کرے گا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (( وَمَا فَاتَکُمْ فَاَتِمُّوْا)) [1] [’’اور جو فوت ہو جائے اسے بعد میں پورا کر لو۔‘‘]اور ظاہر ہے اتمام ابتداء سے ہوتا ہے نہ کہ انتہا ء سے جن روایات میں ’’فَاقْضُوْا‘‘ کے لفظ وارد ہوئے ہیں وہ اتمام کے معنی میں ہیں لہٰذا دونوں روایتوں میں کوئی منافاۃ نہیں ۔ دیکھئے قرآن مجید میں ہے: ﴿فَاِذَا قَضَیْتُمْ مَّنَاسِکَکُمْ﴾ اور ﴿فَاِذَا قُضِیَتِ الصَّلَاۃُ﴾ پھر تکبیر تحریمہ کے بعد پہلی رکعت ہوتی ہے نہ کہ دوسری ، تیسری یا چوتھی۔ وذلک ظاہر لا یخفی علی أحد من المصلین ۱۴؍۱۲؍۱۴۲۱ھ س: اگر کوئی شخص جماعت کے ساتھ شامل ہوا دوسری یاتیسری رکعت میں ۔ وہ اس کی پہلی رکعت شمار ہو گی یا دوسری یا تیسری۔ اسی طرح جنازہ میں اگر کوئی دوسری تکبیر کے ساتھ ملے تو کیا کرے؟ (عبدالرحمن) ج: نماز کی جماعت میں دوسری یا تیسری یا چوتھی رکعت میں شامل ہونے والا ان رکعات کو پہلی رکعت شمار کرے اور جو رکعات امام کے سلام کے بعد اُٹھ کر پڑھے گا ان کو آخری رکعات شمار کرے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ((مَا أَدْرَکْتُمْ فَصَلُّوْا ، وَمَا فَاتَکُمْ فَأَتِمُّوْا)) (۱) لفظ اتمام بتارہا ہے کہ جس رکعت میں مقتدی آ کر شامل ہوا وہ اس کی پہلی رکعت ہے اور جو سلامِ امام کے بعد اُٹھ کر پڑھے گا وہ اس کی آخری رکعات ہیں ، بعض روایات میں (( فَاقْضُوْا)) کا لفظ بھی وارد ہوا ہے وہ بھی اتمام کے معنی میں ہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَاِذَا قُضِیَتِ الصَّلَاۃُ﴾ الایہ ۔نیز فرمایا: ﴿فَاِذَا قَضَیْتُمُ الصَّلَاۃَ﴾ الآیہ۔ نمازِ جنازہ میں بھی حکم یہی ہے جس تکبیر میں کوئی شامل ہو گا وہ اس کی پہلی تکبیر ہو گی اور سلامِ امام کے بعد جو تکبیریں ہوں گی وہ آخری ہوں گی۔[2] س: مغرب کی نماز پڑھنی ہو اور عشاء کی جماعت کھڑی ہو جائے تو مغرب کی نماز کس طرح پڑھی جائے گی؟ (میاں سرفراز ، اوکاڑہ) ج: اس صورت میں مغرب کی نماز عشاء کی نماز کے ساتھ پڑھ لے ، باقی ایک رکعت زائد کے ساتھ دوسری رکعت بھی ملا لے تین فرض اور دو نفل ہو جائیں گے۔دلیل مسافر کے ذمہ دو رکعت نماز ہے مقیم کی اقتداء میں [1] مسلم؍المساجد؍باب استحباب اتیان الصلاۃ بوقاروسکینۃ [2] بخاری؍کتاب الاذان؍باب لا یسعیٰ الی الصلاۃ ولیاتھا بالسّکینۃ والوقار