کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 220
حدیث غیر ثابت)) (۲؍۲۸۸) تدبر سے کام لیں ، جن محدثین کے اسماء گرامی آپ نے اپنے مکتوب میں درج فرمائے، انہوں نے یا ان سے کسی ایک نے تدلیس حسن کا جواب کیا دیا؟ ۱۵؍۱۲؍۱۴۲۳ھ س: فرض نماز کی پہلی ۲ رکعتوں میں فاتحہ اور سورہ ملانا ضروری ہے۔ باقی ۲ رکعتوں میں فاتحہ کے بعد سورہ ملانا ضروری ہے یا نہیں ؟ (طارق سعید) ج: امام اور اکیلا نمازی فرض و نفل نماز کی ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ کے ساتھ کوئی اور سورت یا اس کا حصہ ملائے۔ ظہر و عصر کے فرضوں کی آخری دو رکعتوں میں رعایت ہے۔ ملائے خواہ نہ ملائے۔ رہا مقتدی تو وہ جن رکعات میں امام قراء ت جہراً کرتا ہے، ان رکعات میں صرف سورۂ فاتحہ پڑھے ساتھ کوئی اور سورت یا اس کا حصہ نہ ملائے۔ جن رکعات میں امام قراء ت سراً کرتا ہے ان میں مقتدی کی حیثیت امام و اکیلے نمازی والی ہے، جو اوپر بیان ہوچکی ہے۔ اس سلسلہ میں تمام احادیث کا خلاصہ پیش کردیا ہے۔ [عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ جس نے ام القرآن سورۂ فاتحہ نہ پڑھی، اس کی نماز ہی نہیں ہوتی اور معمر نے اتنا زیادہ کیا پس زائد۔‘‘ [1] ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر و عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سورۂ فاتحہ اور کوئی ایک سورت پڑھتے۔ اور پچھلی دو رکعتوں میں صرف فاتحہ پڑھتے تھے اور کبھی کبھار ہمیں ایک آدھ آیت (بلند آواز سے پڑھ کر) سنا دیتے تھے۔ [2] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی آخری دونوں رکعتوں میں پندرہ آیات کے برابر قراء ت فرماتے۔[3] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں (اپنے دل میں کہتا تھا) کہ قرآن کا پڑھنا مجھ پر دشوار کیوں (ہورہا) ہے، پھر میں نے جان لیا کہ تمہارے پڑھنے کی وجہ سے دشوار ہوا۔ پس جب میں پکار کر پڑھوں (جہری نماز میں ) تو قرآن سے سورۂ فاتحہ کے سوا کچھ بھی نہ پڑھو۔ [4] دار قطنی نے اسے حسن اور بیہقی نے صحیح کہا ہے۔ ۱۶ ؍ ۲ ؍ ۱۴۲۳ھ س: کیا امام صاحب تلاوت کرتے ہوئے ہر آیت پر وقف کریں گے؟ (محمد سلیم بٹ) [1] مسلم ؍ الصلوٰۃ ؍ باب وجوب قرائۃ الفاتحۃ فی کل رکعۃ [2] صحیح بخاری ؍ الاذان ؍ باب یقرا فی الاخریین بفاتحۃ الکتاب ، صحیح مسلم ؍ الصلاۃ ؍ باب القرائۃ فی الظہر والعصر [3] مسلم ؍ الصلاۃ ؍ باب القرائۃ فی الظہر والعصر [4] ابو داؤد ؍ الصلوٰۃ ؍ باب من ترک القراء ۃ فی صلاتہ