کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 219
سیرین ان اسأل الحسن ممن سمع حدیث العقیقۃ فسألتہ فقال من سمرۃ بن جندب)) [صحیح بخاری ؍ کتاب العقیقۃ ؍ باب اماطۃ الاذی عن الصبی فی العقیقۃ جزء ۷ ، ص:۱۰۹ ، ۱۱۰] امام حاکم فرماتے ہیں : (( وحدیث سمرۃ لا یتوھم متوھم ان الحسن لم یسمع من سمرۃ فانہ قد سمع منہ)) [المستدرک جزء اول ، ص:۲۱۵] امام ابو داؤد فرماتے ہیں : (( ودلت ھذہ الصحیفۃ علی ان الحسن سمع من سمرۃ)) [ابو داؤد کتاب الصلاۃ ، جزء اول ، ص:۱۴۷] مندرجہ بالاحوالہ جات سے اور امام حسن بصری کے قول سے تو یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ انہوں نے حضرت سمرہ بن جندب سے سنا ہے، مگر آپ نے ان کی حدیث کو ضعیف قرار دیا۔ برائے مہربانی مجھے ان کے بارے میں دلائل کی روشنی میں بتائیں کیا واقعی یہ ضعیف ہیں اور ان کی حدیث پر عمل نہیں کیا جائے گا؟ (سجاد الرحمن شاکر بن حاجی محمد اکرم ، ایبٹ آباد) ج: ’’ احکام و مسائل ‘‘ میں سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کی سکتتین والی روایت کے ضعیف اور معلول قرار دینے میں حسن کے سمرہ سے سماع نہ ہونے کو بنیاد نہیں بنایا گیا، بلکہ تدلیس حسن کو بنیاد بنایا گیا ہے، چنانچہ احکام و مسائل میں لکھا ہے: ’’ اس کی سند میں حسن بصری رحمہ اللہ ہیں ، ان کے متعلق تقریب میں لکھا ہے(( وکان یرسل کثیرا ویدلس)) [۶۹] ’’یہ کثرت سے ارسال اور تدلیس کیا کرتے تھے۔‘‘ اور اس مقام پر انہوں نے سماع کی تصریح نہیں فرمائی۔ اس اجمال کی تفصیل معلوم کرنا چاہتے ہوں تو ارواء الغلیل (۲؍۲۸۴ ۔ ۲۸۸ ؍ ۵۰۵) اور سلسلۃ ضعیفہ (۲؍۲۵۔ ۲۶ ؍ ۵۴۷) دیکھ لیں ۔ اگر آپ تھوڑی سی زحمت گوارا فرماتے اور ارواء الغلیل اور سلسلہ ضعیفہ کے محولہ بالا مقامات دیکھتے اور انہیں خوب سمجھتے تو آپ کو یہ طویل مکتوب لکھنے کی چنداں ضرورت نہ پڑتی۔ چلو کوئی بات نہیں یہ بندۂ فقیر إلی اللہ الغنی ہی إرواء الغلیل کا محولہ بالا مقام نقل کیے دیتا ہے۔ آپ غور فرمالیں ۔ (( علی أن الحسن البصری مع جلالۃ قدرہ کان یدلس ، فلو فرض أنہ سمع من سمرۃ غیر حدیث العقیقۃ فلا یحمل روایتہ لہذا الحدیث أو غیرہ علی الاتصال إلا إذا صرح بالسماع ، وھذا مفقود فی ھذا الحدیث ، بل فی بعض الروایات عنہ مایشیر إلی الانقطاع فإنہ قال فیھا: قال سمرۃ۔ وھی روایۃ إسماعیل ولذلک فالحدیث لا یحتج بہ ، وقد قال أبوبکر الجصاص فی أحکام القران (۳؍۵۰): إنہ