کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 218
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی ایسی نماز نہیں پڑھی اور نہ امت کو سکھائی ہے ، جس کی کسی رکعت میں قیام اور سورۂ فاتحہ نہ ہوں ۔ قیام اور سورۂ فاتحہ کے بغیر نماز نہ ہوگی۔ واللہ اعلم بالصواب۔ س: اس تحریر کا ترجمہ درکار ہے۔ (( عن محمود عن ابی نعیم انہ سمع عبادۃ بن الصامت رضی ا للّٰه عنہ عن النبی صلی ا للّٰه علیہ وسلم قال ھل تقرء ون فی الصلوۃ معی قلنا نعم قال فلا تفعلوا الا بفاتحۃ الکتاب واخرجہ من طریق الولید بن مسلم حدثنی غیر واحد منھم سعید ابن عبدالعزیز عن مکحول بھذا رواتہ کلھم ثقات۔)) [آثار السنن ، ص:۹۸](طاہر ندیم) ج: محمود سے ابونعیم سے کہ اس نے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے سنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے پوچھا:’’ کیا تم نماز میں میرے ساتھ پڑھتے ہو ؟ ہم نے کہا: جی ہاں ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پس نہ کرو ، مگر فاتحۃ الکتاب اس کو دار قطنی نے ولید ابن مسلم کے طریق سے نکالا۔ اس نے کہا مجھے کئی اک نے حدیث سنائی ان سے سعید بن عبدالعزیز ہیں ۔ مکحول سے اس کے ساتھ اس کے تمام راوی ثقہ ہیں ۔ ۷ ؍ ۱ ؍ ۱۴۲۱ھ س: آپ کی کتاب احکام و مسائل کے صفحہ نمبر: ۱۴۷ میں آپ نے لکھا ہے کہ سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کی روایت جو دو سکتوں کے بارے میں ہے، روایت ضعیف و معلول ہے ، کیونکہ اس کی سند میں حسن بصری ہیں ، ان کے متعلق تقریب میں لکھا ہے: (( وکان یرسل کثیرا ویدلس))(۶۹) یہ کثرت سے ارسال اور تدلیس کیا کرتے تھے اور اس مقام پر انہوں نے سماع کی تصریح نہیں فرمائی، لیکن امام بخاری نے حسن عن سمرہ کی حدیث سے حجت لی ہے۔ امام حاکم فرماتے ہیں کہ: (( قد احتج البخاری بالحسن عن سمرہ)) [المستدرک جز ۲، ص:۳۵] امام علی بن مدینی فرماتے ہیں کہ (( سماع الحسن عن سمرۃ صحیح)) [ترمذی کتاب الصلاۃ ؍ باب ما جاء فی الصلاۃ الوسطی انھا العصر جزء اول ، ص:۶۰]امام ترمذی فرماتے ہیں : (( وسماع الحسن عن سمرۃ صحیح][ ترمذی ؍ کتاب البیوع جزء اول ص:۳۸۵] امام بیہقی فرماتے ہیں حسن عن سمرہ کی حدیث کے متعلق۔ (( ھذا اِسنادہٗ صحیح)) [بیہقی کتاب البیوع ؍ باب بیع اللحم بالحیوان جزء ۵ ، ص:۲۹۶] امام حاکم عن سمرہ کی حدیث کے متعلق فرماتے ہیں کہ (( ھذا حدیث صحیح الاسناد)) [حاکم کتاب البیوع باب نھی عن بیع الشاۃ باللحم] امام ذہبی امام حاکم کی موافقت کرتے ہیں ۔ حبیب بن الشہید فرماتے ہیں : ((امر نی ابن