کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 216
(۲).....رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رشادِ گرامی ہے: (( لاَ صَلاَۃَ لِمَنْ لَّمْ یَقْرَأْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ ))[متفق علیہ] یعنی ’’ جس نے (نماز میں ) سورۂ فاتحہ نہیں پڑھی اس کی نماز ہی نہیں ۔‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ اگر ایک رکعت میں بھی سورۂ فاتحہ رہ جائے تو ساری نماز نہیں ہوتی، کیونکہ سورۂ فاتحہ پڑھنا نماز کا رکن ہے اور رکن کسی بھی مقام سے رہ جائے، نماز ناقص ہوجاتی ہے، جیسا کہ صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا: (( مَنْ صَلّٰی صَلوٰۃً لَمْ یَقْرَأْ فِیْھَا بِاُمِّ الْقُرْآنِ فَھِیَ خِدَاجٌ ، ثَلاَثًا ، غَیْرُ تَمَامٍ)) [1] یعنی ’’ جس نے نماز میں سورۂ فاتحہ نہیں پڑھی اس کی نماز ناقص و نامکمل ہے۔‘‘ (بالکل اسی طرح جیسے ایک حاملہ اونٹنی وقت سے کچھ ماہ قبل اپنا ناقص الخلقت بچہ گرادے تو وہ کسی کام کا نہیں ہوتا، اسی کو عربی میں (( خِدَاجٌ))کہتے ہیں ۔)اس سے معلوم ہوا کہ جس شخص نے ایک رکعت میں سورۂ فاتحہ نہیں پڑھی اس کی کم از کم وہ رکعت تو ناقص ہوگی اور یہ تو ممکن ہی نہیں کہ کسی شخص کی ایک رکعت تو ناقص ہو اور باقی نماز مکمل ہو۔ (۳).....حدیث (( لَا صَلَا ۃَ))میں (( لَا)) نفی جنس کا ہے، جو اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ جس رکعت میں سورۂ فاتحہ نہیں پڑھی گئی وہ رکعت نماز کی جنس سے نہیں ہے۔ (لہٰذا نماز ناقص ہوئی۔) (۴).....ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: (( لاَ تُجْزِیُٔ صَلٰوۃٌ لاَ یُقْرَأُ فِیْھَا بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ))[صحیح ابن حبان ، سنن دار قطنی]اس حدیث میں (( لَا تُجْزِیُٔ))کا معنی ہے (( لَا تَکْفِیْ وَلَا تَصِحُّ)) یعنی جو شخص نماز میں سورۂ فاتحہ نہیں پڑھتا اس کی نماز صحیح ہوگی نہ اسے کفایت کرے گی۔ اب جس رکعت میں فاتحہ نہیں پڑھی گئی کم از کم وہ رکعت تو صحیح نہ رہی۔ اس لیے اسے صحیح کرنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ رکعت سورۂ فاتحہ سمیت دوبارہ پڑھی جائے۔ (۵).....حدیث قدسی ہے: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’ میں نے اپنے اور اپنے بندے کے درمیان نماز کو (نصف نصف) تقسیم کردیا ہے.....‘‘ حدیث کے مطابق یہاں نماز سے مراد سورۂ فاتحہ ہے، جس کا نصف اول، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء، بزرگی، بڑائی اور توحید عبادت پر مشتمل ہے، جبکہ نصف ثانی بندے کی دعاؤں پر مشتمل ہے۔ جب بندہ نماز میں سورۂ فاتحہ پڑھ رہا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ ان دعاؤں کی قبولیت کا اعلان فرماتے ہیں ۔ لیکن جو نمازی ایک رکعت میں سورۂ فاتحہ نہیں پڑھتا اس کی وہ رکعت اللہ کے اس انعام عظیم سے محروم رہتی ہے۔ (۶).....تندرست اور صاحب استطاعت آدمی کے لیے نماز میں قیام کرنا ضروری ہے، جس طرح رکوع یا سجدے کے بغیر نماز نہیں ہوتی، اسی طرح قیام یا فاتحہ کے بغیر بھی اس کی نماز نہیں ہوتی۔ لہٰذا یہ کہنا قرین انصاف نہیں [1] مسلم ؍ الصلاۃ ؍ باب وجوب قرائۃ الفاتحۃ فی کل رکعۃٗ حدیث: ۱۴