کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 215
رکوع میں تھے۔ حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے صف میں پہنچنے سے پہلے ہی رکوع کرلیا اور اسی حالت میں چل کر صف میں پہنچے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اللہ تیرا شوق زیادہ کرے، آئندہ ایسا نہ کرنا۔‘‘ (بخاری ، صفۃ الصلوٰۃ (الأذان) باب إذا رکع دون الصف ، حدیث:۷۸۳) بعض لوگ اس حدیث سے یہ نکتہ نکالتے ہیں کہ اگر نمازی حالت رکوع میں امام کے ساتھ شامل ہو تو وہ اسے رکعت شمار کرے گا، کیونکہ حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے رکعت نہیں دھرائی نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایسا کرنے کا حکم دیا اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ قیام ضروری ہے نہ فاتحہ۔ یہ مؤقف محل نظر ہے کیونکہ (الف) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رکعت لوٹانے کا حکم دیا تھا یا نہیں ؟ یا انہوں نے ازخود رکعت کو لوٹایا تھا یا نہیں ؟ اس کے متعلق حدیث خاموش ہے۔ اس ضمن میں جو کچھ بھی کہا جاتا ہے وہ محض ظن ......واحتمال کی بنیاد پر کہا جاتا ہے۔ (ب) اس کے برعکس ایسے صریح دلائل موجود ہیں جو (ہر صاحب استطاعت کے لیے) قیام اور فاتحہ دونوں کو لازم قرار دیتے ہیں ۔ اور (ج) قاعدہ یہ ہے کہ جب احتمال اور صراحت آمنے سامنے آجائیں تو احتمال کو چھوڑ دیا جائے گا اور صراحت پر عمل کیا جائے گا۔ (د) سیدھی سی بات ہے کہ اس حدیث شریف کا مرکزی نکتہ حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کا یہ فعل ہے کہ پہلے وہ حالت رکوع میں امام کے ساتھ شامل ہوئے ، پھر اسی کیفیت میں آگے بڑھتے ہوئے صف میں داخل ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اسی فعل سے روکاتھا۔ جماعت میں شامل ہونے کا شوق بجا ، مگر اس شوق کی تکمیل کا یہ طریقہ بہرحال مستحسن نہ تھا۔ (ھ) لہٰذا اس حدیث کو اس کے اصل نکتے سے ہٹا کر قیام اور فاتحہ سے خالی رکعت کے جواز پر لانا درست معلوم نہیں ہوتا۔ واللہ اعلم۔ اس سلسلہ میں ایک استدلال یہ بھی سامنے آیا ہے وہ یہ کہ نماز میں سورۂ فاتحہ پڑھنے کا موقعہ و محل چونکہ قیام ہے، لہٰذاصرف وہی نمازی سورۂ فاتحہ پڑھے گا، جس نے امام کو حالت قیام میں پایا اور جس نے اسے حالت رکوع میں پایا اس کے حق میں سورۂ فاتحہ کی قراء ت ساقط ہوجائے گی، کیونکہ اس کے لیے اس کی قراء ت کا موقعہ و محل باقی نہیں رہا۔ یہ استدلال بھی محل نظر ہے، نقل و عقل دونوں اس کا انکار کرتے ہیں ۔ مثلاً: (۱).....امیر المؤمنین فی الحدیث حضرت امام بخاری رحمہ اللہ نے صحیح بخاری (کتاب الاذان) میں ایک باب (۹۵) یوں قائم کیا ہے: (( بَابُ وُجُوْبِ الْقِرَائَ ۃِ لِلْاِمَامِ وَالْمَأْمُوْمِ فِی الصَّلَوَاتِ کُلِّھَا فِی الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ وَمَا یُجْھَرُ فِیْھَا وَمَا یُخَافَتُ)) یعنی’’ نماز میں سورۂ فاتحہ پڑھنا ہر نمازی پر واجب ہے، خواہ امام ہو یا مقتدی، مقیم ہو یا مسافر، نماز سری ہو یا جہری۔‘‘