کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 214
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو شخص بھی نماز میں ہو اکیلا ہو یا جماعت کے ساتھ، امام ہو یا مقتدی، مقیم ہو یا مسافر، فرض پڑھ رہا ہو یا نوافل، امام سورۂ فاتحہ پڑھ رہا ہو یا کوئی اور سورت بلند آواز سے پڑھ رہا ہو یا آہستہ اگر اسے سورۂ فاتحہ آتی ہو ، پھر بھی نہ پڑھے تو اس کی نماز نہیں ہوگی۔ ] ۷ ؍ ۲ ؍ ۱۴۲۳ھ س: کوئی آدمی امام کے ساتھ نماز میں اس وقت ملے جب امام آدھی فاتحہ پڑھ چکا ہو تو آیامسبوق فاتحہ سنے گایا اپنی پڑھے گا ، اگرپڑھے گا تو درمیان سے یا شروع سے؟ (عبدالصمد بن موج علی) ج: امام کی قراء ت سنے گا بھی اور سورۂ فاتحہ آغاز سے لے کر آخر تک پڑھے گابھی۔ خود سراً پڑھنے اور دوسرے کی آواز سننے میں کوئی منافاۃ ومنازعہ نہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ وَاِذَا قُرِیَٔ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوْا لَہٗ وَأَنْصِتُوْا لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَط﴾ [الاعراف:۲۰۴] [’’اور جب قرآن کی تلاوت کی جائے تو تم اس کی طرف ہی کان لگائے رہو اور خاموش رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ ‘‘] رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (( لاَ صَلاَۃَ لِمَنْ لَّمْ یَقْرَأْ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ)) [1] [’’جس آدمی نے سورۂ فاتحہ نہ پڑھی اس کی نماز نہیں ۔ ‘‘] ۱۶ ؍ ۱۲ ؍ ۱۴۲۳ھ س: اگر ایک آدمی حالت قیام میں جماعت سے ملا ہے اور امام رکوع میں چلا گیا ہے اور مقتدی ( جو امام کو حالت قیام میں ملا ہے) مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْن ِپر پہنچا ہے۔ کیا اب وہ سورۂ فاتحہ مکمل کرکے رکوع کرے یا اسی طرح سورۂ فاتحہ کو چھوڑ کر رکوع میں مل جائے نیز یہ بھی بتائیں کہ اُس کی وہ رکعت شمار ہوگی یا نہیں ؟ (محمد ابراہیم محمدی) ج: صورت مسؤلہ میں مقتدی پر لازم ہے کہ وہ رکوع جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (( وَاِذَا رَکَعَ فَارْکَعُوْا)) [2] ’’جب امام رکوع کرے تو تم رکوع کرو۔‘‘ اگر مقتدی اس صورت میں کھڑا سورۂ فاتحہ پڑھتا رہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مذکورہ بالا فرمان کی خلاف ورزی لازم آئے گی۔ اس صورت میں چونکہ سورۂ فاتحہ نہیں پڑھی گئی اس لیے وہ رکعت نہیں ہوگی۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ((لاَ صَلاَۃَ لِمَنْ لَّمْ یَقْرَأْ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ)) [3] حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں شامل ہوئے اس وقت آپ [1] بخاری ؍ الأذان ؍ باب وجوب القراء ۃ للإمام والماموم فی الصلوٰت کلھا ، مسلم ؍ الصلاۃ ؍ باب وجوب قراء ۃ الفاتحۃ فی کل رکعۃ [2] صحیح بخاری ؍ کتاب الأذان ؍ بابٌ إِنَّمَا جُعِلَ الْاِمَامُ لِیُوْتَمَّ بِہٖ [3] صحیح بخاری؍کتاب الأذان؍ باب وجوب القراء ۃ للامام والماموم فی الصّلوات کلھا فی الحضر والسفر وما یجھر فیھا وما یخَافَتُ