کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 208
ج: امام اور تمام مقتدیوں کی نماز صحیح اور درست ہے۔ البتہ پنجابی زبان میں ’’ بیٹھے رہو یہ نماز کی تیسری ہی رکعت ہے‘‘ کہنے والا نماز دہرائے، کیونکہ نماز میں عمداً کلام الناس منع ہے۔ [ زید بن أرقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نماز میں باتیں کرتے تھے، پھر قُوْمُوْا لِلّٰہِ قَانِتِیْنَ آیت نازل ہوئی تو ہمیں چپ چاپ رہنے کا حکم ہوا اور بات کرنا منع ہوگیا۔][1] جس سے نماز نہیں ہوتی، خواہ کلام الناس عربی ہی میں کیوں نہ ہو۔ مثلاً اگر وہ کہتا ہے: (( کُنْ جَالِسًا لاَ تَقُمْ إِنَّمَا ھٰذِہٖ الرَّکْعَۃُ ثَالِثَۃٌ))تو بھی وہ نماز دہراتا۔ قرآنِ مجید کی تلاوت کے علاوہ نماز میں لقمہ کا طریقہ ’’ سبحان اللّٰه ‘‘ تسبیح ہی ہے۔[ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ جب نماز میں کوئی بات درپیش ہو تو مقتدی سبحان اللہ کہیں اورتالی بجانا عورتوں کے لیے ہے۔][2] رہا مسئلہ پتہ چلنے نہ چلنے والا معاملہ تو اس کا اعتبار نہیں ۔ ویسے عام طور پر پتہ چل ہی جاتا ہے۔ صورت مسؤلہ ہی لے لیں کچھ لوگوں نے سبحان اللہ کہا تو امام صاحب کھڑا ہونے لگ گئے اب یہ پنجابی بولنے والا اگر سبحان اللہ ہی کہتا تو امام صاحب کو پتہ یہی چلنا تھا کہ یہ صاحب مجھے کھڑا ہونے سے روک رہے ہیں ، کیونکہ کھڑا کرنے کے لیے تو پہلا سبحان اللہ ہی کافی تھا، اس تیسرے کو سبحان اللہ کہنے کی ضرورت ہی نہ تھی۔ ۳۰ ؍ ۴ ؍ ۱۴۲۴ھ س: مقتدی اور امام دونوں کو سمع ا للّٰه لمن حمدہٗ کہنا چاہیے یا صرف امام کہے اور مقتدی صرف ربنا لک الحمد کہیں ؟ (ظفر اقبال ، ضلع نارووال) ج: تینوں نمازی، امام، مقتدی اور منفرد.....دونوں چیزیں .....سمع ا للّٰه اور ربنا ولک الحمد .....کہیں .....صحابہ کرام رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع سے سر اٹھاتے تو سمع ا للّٰه لمن حمدہٗ ربنا ولک الحمد کہتے۔ [3] اور معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی امام ہوتے ، کبھی مقتدی اور کبھی اکیلے نماز پڑھتے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا مندرجہ بالا بیان آپ کی ان تینوں حالتوں کو متناول و شامل ہے۔ رہانبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان: (( اِذَا قَالَ الْإِمَامُ سَمِعَ ا للّٰه لِمَنْ حَمِدَہٗ فَقُوْلُوْا اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ)) [4] [ ’’جب امام سمع ا للّٰه لمن حمدہٗ کہے تو تم اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُکہو۔ ‘‘]تو اس سے جس طرح امام و منفرد کے ربنا لک الحمد کہنے کی نفی نہیں نکلتی بالکل اسی طرح اس سے مقتدی کے سمع اللّٰه لمن حمدہ کہنے کی نفی بھی نہیں نکلتی۔ [1] بخاری ؍ العمل فی الصلاۃ ؍ باب ماینھی من الکلام فی الصلاۃ ، مسلم ؍ المساجد ؍ باب تحریم الکلام فی الصلاۃ [2] بخاری ؍ العمل فی الصلاۃ ؍ باب التصفیق للنساء ، مسلم ؍ الصلاۃ ؍ باب تسبیح الرجال وتصفیق النساء اذانا بھما شیٔ فی الصلاۃ [3] بخاری ؍ کتاب الأذان ؍ باب التکبیر اذا قام من السجود [4] مسلم ؍ الصلاۃ ؍ باب النھی عن مبادرۃ الامام بالتکبیر وغیرہ۔