کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 202
تعجب کرتا ہے کہ جو پہاڑکی چوٹی پر رہ کر اذان دیتا اور نماز پڑھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’ میرے بندے کو دیکھو جو نماز کے لیے اذان دیتا اور اقامت کہتا ہے اور مجھ سے ڈرتا ہے۔ میں نے اس کو بخش دیا اور جنت میں اس کو داخل کر دیا۔ ‘‘ ] [1] مسجد میں اکیلے آدمی کے اس طرح کرنے کے متعلق کوئی آیت یا حدیث مجھے معلوم نہیں ۔ [سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ جب کوئی شخص جنگل میں ہو اور نماز کا وقت ہوجائے تو اسے چاہیے کہ وضو کرے اگر پانی موجود نہ ہو تو تیمم کرے ، اگر اقامت کہہ کر نماز پڑھے تو اس کے دونوں فرشتے ﴿کِرَامًا کَاتِبِیْنَ ﴾بھی اس کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں اور اگر اذان و اقامت کے بعد نماز پڑھے تو اس کے پیچھے اس قدر کثیر تعداد میں اللہ کے لشکر نماز پڑھتے ہیں کہ ان کے دونوں کناروں کو دیکھا نہیں جاسکتا۔‘‘ ] [2] ۱ ؍ ۷ ؍ ۱۴۲۳ھ س: مسجد میں ایک شخص اور اہل محلہ کے درمیان بار بار معاہدہ و عہد ہوا کہ وہ شخص اہل محلہ کا امام (مسجد) ہے۔ فریقین کے مابین مسجد ہی میں مکرر طور پر عہد ہوا۔ مگر بعد ازاں بلاوجہ شرعی امام صاحب وعدے سے پھر گیا، جبکہ اہل محلہ قائم رہے۔ کیا ایسا شخص مستقل طور پر امام نماز بنایا جاسکتا ہے؟ جبکہ اس شخص کا ’’ عادی عہد توڑ ‘‘ ہونا واضح اور پختہ امر ہے۔ دوسری طرف حدیث میں وعدہ خلافی آیت منافق بیان ہوئی اور مشکوٰۃ کی حدیث نمبر (۷۴۷) کی رو سے محض قبلہ کی طرف تھوکنے والے شخص کو بحکم رسول امامت سے معزول کردیا گیا تھا؟ ج: ’’ عہد توڑ ‘‘ شخص مستقل امام نہیں بن سکتا۔ کبھی کبھار نماز پڑھائے تو اس کی اقتداء میں نماز ادا کرنا درست ہے اور اگر ایسا امام صاحب قوت ہے تو اس کی اقتداء میں نماز پڑھتے جائیں اور علیحدگی میں خفیہ طور پر اس کو وعظ ونصیحت فرماتے جائیں ۔واللہ اعلم س: میں صغیرہ گناہ کرتا ہوں اگر کہیں مجھے نماز پڑھانی پڑجائے تو کیا نمازیوں کی نماز ہوجائے گی؟ ج: اتفاقاً کبھی کبھار آپ جماعت کرائیں تو آپ کی اقتداء میں نماز درست ہے۔ البتہ آپ جیسے کو مستقل امام بنانا درست نہیں ۔ ابو داؤد میں ہے: ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو نماز میں قبلہ کی جانب تھوکتے دیکھا تو اس کو امامت سے معزول فرمادیا۔‘‘[3] ۹؍۲؍۱۴۲۴ھ س: ہمارے گاؤں میں جو امام مسجد ہے۔ اس کو بطور وراثت مسجد کی چابیاں دی گئی ہیں ۔ حقیقت میں وہ [1] ابو داؤد ؍ کتاب الصلاۃ ؍ باب الاذان فی السفر ، نسائی ؍ الأذان ؍ باب الأذان لمن یصلی وحدہ [2] مختصر الترغیب والترہیب ، رقم الحدیث:۱۰۸ [3] ابوداؤد ؍ المجلد الاول ؍ کتاب الصلوٰۃ ؍ باب فی کراھیۃ البذاق فی المسجد