کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 201
کے بہت مشابہ ہوں ۔ [نسائی ابن خزیمہ] یہ حدیث بسم ا للّٰه الرحمن الرحیم اور آمین کے جہر پر دلالت کرتی ہے اکثر اوقات جہری نماز میں بسم اللہ آہستہ پڑھی گئی ہے اور کبھی اونچی آواز میں بھی۔] ۵ ؍ ۱۱ ؍ ۱۴۲۵ ھ س: قرأت میں بسم ا للّٰه الرحمن الرحیم (نماز کی حالت میں ) بلند آواز سے پڑھنے کا کیا حکم ہے؟ (ابو عکاشہ عبداللطیف) ج: دونوں طرح درست ہے، کیونکہ دونوں کے دلائل موجود ہیں ، کبھی جھراً اور کبھی سراً پڑھ لے تاکہ دونوں قسم کے دلائل پر عمل ہوجائے۔ ۲۹ ؍ ۱ ؍ ۱۴۲۴ ھ س: جناب میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں بریلوی امام کے پیچھے نماز پڑھتا ہوں ، جبکہ اہلحدیثوں کی مسجد کافی دور ہے۔ کیا میری نماز ہوجائے گی۔ بریلوی امام کے پیچھے آمین اور رفع الیدین کرسکتے ہیں ؟ (محمد یوسف ڈوگر) ج: امام مسلم ہو کافر یا مشرک نہ ہو اس کی اقتداء میں نماز درست ہے خواہ اہل حدیث ہو، خواہ دیوبندی، خواہ بریلوی خواہ کوئی اور۔ امام مسلم نہ ہو کافر یا مشرک ہو اس کی اقتداء میں نماز درست نہیں ۔ خواہ اہل حدیث ہو، خواہ دیو بندی ، خواہ ،بریلوی خواہ کوئی اور۔ مقتدی آمین بالجہر کہے اور رفع الیدین بھی کرے ، خواہ امام یہ دونوں کام نہ کرتا ہو، کیونکہ ترک سنت میں اقتداء و اتباع نہیں ۔ مثلاً امام اگر تشہد میں انگلی نہ اٹھائے تو مقتدی اٹھائے گا، امام اگر بوقت تکبیر تحریمہ رفع الیدین نہ کرے تو مقتدی کرے گا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: (( اِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِیُؤْتَمَّ بِہٖ))[’’ امام اس لیے ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔ ‘‘]کی تفصیل فرمادی ہے۔ ((فَإِذَا کَبَّرَ فَکَبِّرُوْا ، وَاِذَا رَکعَ فَارْکَعُوْا ، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوْا)) [1] [’’جب امام اللہ اکبر کہے تم بھی اللہ اکبر کہو۔ جب وہ رکوع میں جائے تو تم بھی رکوع میں جاؤ۔ جب وہ سجدہ کرے ، تو تم بھی سجدہ کرو۔ جب وہ سر ا ُٹھائے ، تو تم بھی اٹھاؤ۔‘‘] [الحدیث]نیز غور فرمائیں حنفی مقتدی اہل حدیث امام کے پیچھے آمین بالجہر کیوں نہیں کہتا؟ اور رفع الیدین کیوں نہیں کرتا؟ ادھر (( إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِیُؤْتَمَّ بِہٖ))کا تقاضا کیا ہے؟ ((فتفکروا یا أولی الألباب)) ۱ ؍ ۷ ؍ ۱۴۲۳ھ س: اگر مسجد میں کوئی آدمی نہ ہو تو آدمی جماعت کا ثواب لینا چاہے تو اکیلا جماعت کرسکتا ہے؟ (محمد یوسف ڈوگر) ج: صحراء میں تو اکیلے آدمی کے اذان، اقامت کہہ کر نمازپڑھنے کی حدیث نسائی وغیرہ میں موجود ہے۔ [عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ تمہارا پروردگار بکریاں چرانے والے سے [1] بخاری ؍ اذان ؍ باب إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِیُؤْتَمَّ بِہٖ ، مسلم ؍ الصلاۃ ؍ باب ائتمام المأ موم بالإمام