کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 199
[’’جب تم مسجد میں داخل ہو تو بیٹھنے سے پہلے دو رکعت پڑھا کرو۔‘‘][1] اس کا تقاضا ہے کہ وہ اس وقت بھی بیٹھنے سے پہلے دو رکعت پڑھے یا پھر جماعت کھڑی ہونے تک کھڑا رہے۔ ۸ ؍ ۱ ؍ ۱۴۲۴ ھ س: باجماعت نماز میں امام کا تکبیرات کو باآواز بلند کہنا اور مقتدی و اکیلے فرد کا نماز پڑھتے ہوئے آہستہ آواز سے تکبیرات کہنا کس آیت یا حدیث سے ثابت ہے؟ ۲…اگر باجماعت نماز میں امام تکبیرات آہستہ اور مقتدی باآواز بلند کہہ دے تو نماز درست ہوگی یا نہیں ؟ (عبدالصمد بلوچ بن موج علی) ج:(۱).....اللہ تبارک وتعالیٰ قرآنِ مجید میں فرماتے ہیں : ﴿ وَاذْکُرْ رَّبَّکَ فِیْ نَفْسِکَ تَضَرُّعًا وَّ خِیْفَۃً وَّ دُوْنَ الْجَھْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ وَلَا تَکُنْ مِّنَ الْغَافِلِیْنَ ط﴾[الاعراف:۲۰۵] [’’اور اپنے پروردگار کو صبح و شام اپنے دل میں عاجزی اور ڈر سے یاد کرو اور زبان سے بھی ہلکی آواز سے یاد کرو اور غافلوں میں نہ ہو جاؤ۔‘‘]اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنا ذکر سرًا کرنے کا حکم دیا ہے، ذکر میں اللہ اکبر بھی شامل ہے ، یہ خطاب امام ، مقتدی اور منفرد کو بھی متناول ہے۔ہاں جن اذکار کا جہر کتاب و سنت سے ثابت ہے وہ جہرًا ہوں گے۔ امام کا تکبیر جہراً کہنا ثابت ہے۔ صحیح بخاری میں ہے: (( عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ ا للّٰه قَالَ: صَلَّیْتُ خَلْفَ عَلِیِّ بْنِ أَبِیْ طَالِبٍ أَنَا وَعِمْرَانُ بْنُ حُصَیْنٍ ، فَکَانَ إِذَا سَجَدَ کَبَّرَ ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ کَبَّرَ ، وَإِذَا نَھَضَ مِنَ الرَّکْعَتَیْنِ کَبَّرَ ، فَلَمَّا قَضٰی الصَّلاَۃَ أَخَذَ بِیَدِی عِمْرَانُ بْنُ حُصَیْنٍ ، فَقَالَ: قَدْ ذَکَرَنِیْ ھٰذَا صَلاَۃَ مُحَمَّدٍ صلی ا للّٰه علیہ وسلم [2] [ ’’مطرف بن عبداللہ بن شخیر سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں اور عمران بن حصین نے علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب کے پیچھے نماز پڑھی تو وہ جب بھی سجدہ کرتے تو تکبیر کہتے اسی طرح جب سر اُٹھاتے تو تکبیر کہتے جب دو رکعات کے بعد اُٹھتے تو تکبیر کہتے جب نماز ختم ہوئی تو عمران بن حصین نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا کہ علی رضی اللہ عنہ نے آج محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز یاد دلا دی یا یہ کہاکہ اس شخص نے ہم کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی طرح آج نماز پڑھائی۔‘‘] الحدیث ، وفی رِوَایَۃٍ: فَذَکَرَ أَنَّـہٗ کَانَ یُکَبِّرُ کُلَّمَا رَفَعَ ، وَکُلَّمَا وَضَعَ (۱؍۱۰۸)[3] [’’ اور ایک روایت [1] بخاری ؍ کتاب المساجد ؍ باب اذا دخل المسجد فلیرکع رکعتین ، مسلم ؍ صلاۃ المسافرین ؍ باب استحباب تحیۃ المسجد برکعتین [2] بخاری؍کتاب الاذان؍باب اتمام التکبیر فی السجود [3] بخاری؍کتاب الاذان؍باب اتمام التکبیر فی الرکوع