کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 198
(( وَمَنْ یَّعْصِ ا للّٰه وَرَسُوْلَہٗ فَقَدْ ضَلَّ وَغَوٰی))اور معلوم ہی ہے کہ اصطلاحی سنت کا ترک ضلالت نہیں تو ثابت ہوا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ والی اس حدیث کو اگر نماز باجماعت پر محمول کیا جائے جیسا کہ آپ کا خیال ہے تو اس سے جماعت کا فرض و واجب ہونا ہی ثابت ہوگا، کیونکہ اس میں ترک جماعت کو (آپ کی شرح کے مطابق) ضلالت و گمراہی قرار دیا گیا ہے، جبکہ اصطلاحی سنت کا ترک ضلالت و گمراہی نہیں ۔ ان ضلالت والے لفظ سے یہ بھی ثابت ہوا کہ فقہائے حنفیہ سنن ہدی سے جو معنی مراد لیتے ہیں وہ اس حدیث میں نہیں چلتا۔ تو خلاصہ کلام یہی ہوا کہ نماز باجماعت پڑھنا فرض اور واجب ہے اور نماز میں جماعت کا فرض وواجب ہونا قرآن و سنت سے ثابت ہے۔ نیز قرآن و سنت میں اس کا کوئی معارض نہیں پھر شوکانی رحمہ اللہ کا فیصلہ : (( وَقَدْ تَقَرَّ راَنَّ الْجَمْعَ بَیْنَ الْاَحَادِیْثِ.....اِلٰی قَوْلِہٖ : اِلاَّ مَحْرُوْمٌ مَشْؤمٌ))نیز صاحب مرعاۃ کا فیصلہ: ((وَاَقْرَبُ الْاَقْوَالِ عِنْدِیْ أَنَّ صَلاَۃَ الجَمَاعَۃِ سُنَّۃُ مُؤَکَّدَۃٌ قَرِیْبَۃٌ مِّنَ الوَاجِبِ ، وَبِھٰذَا تَجْتَمِعُ الْاَحادِیْثُ الْمُشْعِرَۃُ بِالْوُجُوْبِ ، وَالْاَحَادِیْثُ الْمُقتَضِیَۃُ لِعَدَمِ الْوُجُوْبِ)) [1] دونوں ہی درست نہیں ۔ واللہ اعلم۔ ۲۱ ؍ ۷ ؍ ۱۴۲۲ھ س: اکثر مسجدوں میں نمازی کھڑے ہوکر امام کا انتظارکرتے ہیں ۔ مقتدیوں کو کب نماز کے لیے کھڑا ہونا چاہیے۔ تکبیر سے پہلے یا امام کے مصلے پر کھڑا ہونے کے وقت یا تکبیر کے درمیان میں ۔ ایک آدمی صبح کی نماز سے دس منٹ پہلے آتا ہے وہ مسجد میں چکر لگاتا رہتا ہے۔ کوئی سورت ساتھ ساتھ پڑھتا جاتاہے، لیکن بیٹھتا نہیں جب تکبیر ہوتی ہے تو ساتھ نمازپڑھتا ہے۔ کیا وہ آدمی دو نفل تحیۃ المسجد کے پڑھ کر بیٹھ سکتا ہے یا اس کا اس طرح چلنا پھرنا اور ساتھ تلاوت کرنا درست ہے؟ (محمد سلیم بٹ) ج: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (( اِذَا اُقِیْمَتِ الصَّلاَۃُ فَلاَ تَقُوْمُوْا حَتَّی تَرَوْنِیْ)) [2] [’’ جب نماز کی اقامت ہوجائے تو کھڑے نہ ہوا کرو ، یہاں تک کہ تم مجھے دیکھ لو۔ ‘‘]ایک روایت میں یہ لفظ بھی آئے ہیں : ((قَدْ خَرَجْتُ))اس سے ثابت ہوا کہ مقتدی صرف اقامت سن کر کھڑے نہیں ہوسکتے اور صرف امام کو نماز پڑھانے کی خاطر آتے دیکھ کر بھی کھڑے نہیں ہوسکتے۔ دونوں چیزیں جمع ہوجائیں تو پھر کھڑے ہوں اقامت بھی سن لیں اور امام کو نماز پڑھانے کی خاطر آتے دیکھ بھی لیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (( اِذَا دَخَلَ اََحَدُکُمُ الْمَسْجِدَ فَلْیَرْکَعْ رَکْعَتَیْنِ قَبْلَ اَنْ یَجْلِسَ)) [1] مرعاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ؍ کتاب الصلاۃ ؍ باب الجماعۃ وفضلھا [2] بخاری ؍ کتاب الأذان ؍ بابٌ متی یقوم الناس اذا راوا الامام عند الاقامۃ