کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 194
کا ثواب اس شخص کو ملتا ہے جو ( مسجد تک) دور سے چل کر آتا ہے پھر (درجہ بدرجہ) وہ جو سب سے زیادہ مسافت طے کرکے آتا ہے اور جو شخص منتظر رہے کہ امام کے ساتھ نماز پڑھے اس کا ثواب اس شخص سے زیادہ ہے جو جلدی سے (پہلے ہی) نماز پڑھ کر سو جاتا ہے۔‘‘] (۳)(( قَالَ اَمَرَ جَمَاعَۃً مِنَ الْوَافِدِینَ عَلَیْہِ بِالصَّلوٰۃِ وَلَمْ یَاْمُرْھُمْ بِفِعْلِھَا فِیْ جَمَاعَۃٍ)) [اس کا حوالہ نہیں لکھا۔] (۴)اکیلا نماز پڑھنا اس کا ایک درجہ ہے اور جماعت کے ساتھ ۲۵ یا ۲۷ درجہ ثواب ہے۔ [1] (۵)حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اسے سنن الھدیٰ سے شمار کیا ہے اور صاحب معارف القرآن نے وَارْکَعُوْا مَعَ الرَّاکِعِیْن َکے تحت لکھا ہے کہ سنن الھدیٰ سے سب فقہاء سنت مؤکدہ مراد لیتے ہیں ۔ اس کے علاوہ بھی اگر کوئی دلیل ہو تو اس کا بھی حوالہ عنایت فرمائیں ۔ (خاور رشید) ج: نماز باجماعت پڑھنا فرض و واجب ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَارْکَعُوْا مَعَ الرَّاکِعِیْنَ﴾ [البقرۃ:۴۳] [’’اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔‘‘ ] نیز قرآن مجید میں جگہ جگہ اقامت صلاۃ کا امر و حکم وارد ہوا ہے اور اقامت صلاۃ کے متعدد معانی سے ایک معنی باجماعت نماز پڑھنا بھی ہے تو اس معنی کو پیش نظر رکھا جائے تو بھی نماز باجماعت پڑھنا فرض و واجب بنتا ہے کیونکہ امرو حکم حقیقتہً وجوب کے لیے ہوتا ہے ۔ کما ھو الأصح من الأقوال۔ امام بخاری .....رحمہ اللہ الباری .....اپنی کتاب جامع صحیح میں باب منعقد فرماتے ہیں : (( بَابُ وُجُوبِ صَلاَۃِ الجَمَاعَۃِ۔ وَقَالَ الْحَسَنُ اِنْ مَنَعَتْہُ اُمُّہُ عَنِ الْعِشَآئِ فِی الجَمَاعَۃِ شَفَقَۃً لَمْ یُطِعْھَا)) [ ’’ حسن بصریؒ نے فرمایااگر کسی شخص کی ماں اس کو محبت کی راہ سے عشاء کی نماز میں جانے سے روکے تو اس کا کہا نہ مانے۔‘‘] نیچے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث: (( وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَقَدْ ھَمَمْتُ اَنْ آمُرَ بِحَطَبٍ لِیُحْطَبَ))[’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں نے ارادہ کرلیا تھا کہ لکڑیاں جمع کرنے کا حکم دوں پھر نماز کے لیے اذان کہوں پھر کسی شخص کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کا امام بنے اور خود میں ان لوگوں کے پاس جاؤں ( جو جماعت میں حاضر نہیں ہوتے) پھر انہیں ان کے گھروں سمیت جلادوں ۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر ان میں کسی کو یہ معلوم ہوجائے کہ وہ (مسجد میں ) موٹی [1] صحیح بخاری؍ کتاب الأذان ؍ باب فضل صلاۃ الجماعۃ