کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 192
پیچھے نماز پڑھے پس وہ نماز کو لوٹائے۔ ]جو حدیث آپ نے پیش فرمائی اس میں صرف اتنی بات ہے کہ صف کے پیچھے اکیلا کھڑا ہوجائے باقی اس کی نماز اکیلے ہونے کی صورت میں ہوجائے گی یا نہیں ہوگی۔ دونوں صورتوں کا آپ کی اس حدیث میں ذکر نہیں ۔ ہاں دوسری حدیث میں ذکر آگیا کہ صف کے پیچھے اکیلے کی نماز نہیں وہ نماز دہرائے۔ ۴ ؍ ۱۲ ؍ ۱۴۲۳ھ س: نماز باجماعت پڑھتے ہوئے کسی کا وضو ٹوٹ جاتا ہے اور وہ صف سے نکل جاتا ہے ایک صورت میں نمازی امام کی طرف مل جاتے ہیں اور صف کے آخر میں ایک آدمی کی جگہ بچ جاتی ہے۔ یا پھر پچھلی صف سے ایک آدمی چل کر پہلی صف کو مکمل کردیتا ہے۔ (حافظ محمد یونس) ج: آپ نے اس سوال میں دوصورتیں ذکر فرمائی ہیں ۔ ان دونوں سے دوسری صورت بہتر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے: (( أتموا الصف المقدم ثم الذی یلیہ ، فما کان من نقص فلیکن فی الصف المؤخر)) [1] [’’ پہلے اول صف کو پورا کرو، پھر اس کو جو پہلی کے بعد ہے اور جو کمی ہے وہ آخری صف میں ہو۔ ‘‘] ۶ ؍ ۱ ؍ ۱۴۲۱ھ س:۱۔ آپ بتائیں کہ پہلی صف مکمل ہوچکی ہے۔ بعد میں ایک آدمی آئے۔ وہ اکیلا صف میں کھڑا ہوجائے یا پہلی صف میں سے کوئی آدمی کھینچ لے۔ آپ مزید یہ بتائیں کہ اگر آدمی پچھلی صف میں اکیلا کھڑا ہو اور نماز ختم ہونے تک کوئی آدمی بھی ساتھ نہیں ملا۔آیا وہ سلام پھیردے یا کھڑا ہوکر پہلی چار یا تین یا دو رکعت نماز پھر ادا کرے۔ اگر وہ کھڑا ہوکر پہلی جتنی بھی رکعتیں ادا کرتا ہے، اس کو جماعت کا ثواب ملے گا یا نہیں ۔ بندہ کھینچنے والی حدیث مبارکہ صحیح ہے یا ضعیف ہے؟ ۲:…اگر جماعت کھڑی ہوجائے اور رکوع پر پہنچ جائے۔ بعد میں آنے والا آدمی بھی رکوع میں شامل ہوجائے۔ آیا اس کی رکعت مکمل ہوجائے گی یا نہیں ۔ اس نے تو سورۃ الفاتحہ بھی نہیں پڑھی؟ (علی احمد ولد مولوی عبدالرشید، گوجرانوالہ) ج:۱۔ مشکاۃ ؍ کتاب الصلاۃ ؍ باب تسویۃ الصف الفصل الثانی میں بحوالہ ابو داؤد ہے: (( وعنہ قال: قال رسول ا للّٰه صلی ا للّٰه علیہ وسلم : أَتِمُّوا الصَّفَّ الْمُقَدَّمَ ثُمَّ الَّذِیْ یَلِیْہِ ، فَمَا کَانَ مِنْ نَقْصٍ فَلیَکُنْ فِی الصَّفِ المُؤَخَّرِ ۱؍۳۴۲)) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مذکور بالا حکم کا تقاضا ہے کہ پہلی صف مکمل ہوچکنے کے بعد آنے والا اکیلا ہی صف کے پیچھے [1] أبو داؤد ؍ أبواب الصفوف ؍ باب تسویۃ الصفوف