کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 190
اذان اور اقامت کہی اور جماعت کرائی۔] ۲۴ ؍ ۶ ؍ ۱۴۲۳ھ س: کیا میں بریلوی کی مسجد میں اذان سے پہلے جماعت کرواسکتا ہوں ، اس صورت میں میری نماز ہوجائے گی ، جبکہ اسی گاؤں میں اہلحدیث کی مسجد میں اذان ہوچکی ہوتی ہے؟ (محمد یوسف ڈوگر) ج: جس مسجد کی بنیاد تقویٰ پر نہیں غیر تقویٰ ، غیر اخلاص پر ہے اس میں نماز وقیام درست نہیں ، خواہ وہ مسجد اہلحدیث ہی کی کیوں نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ لَا تَقُمْ فِیْہِ اَبَدًا لَّمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَی التَّقْوٰی مِنْ اَوَّلِ یَوْمٍ اَحَقُّ أَنْ تَقُوْمَ فِیْہِ ط﴾[التوبۃ:۱۰۸][’’ (اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم !) آپ اس (مسجد ضرار) میں کبھی بھی (نماز کے لیے) کھڑے نہ ہونا وہ مسجد جس کی پہلے دن سے تقویٰ پر بنیاد رکھی گئی تھی، زیادہ مستحق ہے کہ آپ اس میں کھڑے ہوں ۔ ‘‘] واللہ اعلم۔ ۱ ؍ ۷ ؍ ۱۴۲۳ھ س: ایک نمازی باجماعت نماز میں امام کے ٹھیک پیچھے کھڑا ہوتاہے، اس نمازی کو صف کے دائیں طرف کھڑے ہونے کا یا بائیں طرف کھڑے ہونے کا ثواب ملے گا؟ (محمد یونس شاکر) ج: اس کو ٹھیک پیچھے کھڑا ہونے کا ثواب ملے گا۔ ان شاء اللہ تعالیٰ ۴ ؍ ۱ ؍ ۱۴۲۴ھ س: جماعت میں برابر والے کے ٹخنے سے ٹخنہ ملائیں تو پاؤں اندر کی طرف مڑ جاتے ہیں اور پاؤں کی انگلیوں کے سرے قبلہ رخ نہیں رہتے۔ پاؤں پچھلی جانب سے ملانا شروع کریں پھر بھی پاؤں اندر کی طرف موڑنا پڑتا ہے۔ پاؤں کی انگلیوں کو قبلہ رخ رکھنا چاہیے۔ ٹخنہ خواہ نہ ملے صرف پاؤں ملا لیاجائے یا ٹخنے سے ٹخنہ ضرور ملائیں ۔ اگرچہ پاؤں کی انگلیاں قبلہ کی طرف سے ہٹ جائیں ۔ اس حالت میں طویل قیام بہت تکلیف دہ ہوتا ہے۔ محدث روپڑی لکھتے ہیں : ’’ رہی یہ بات کہ ٹخنے سے مراد ٹخنہ ہی ہے یا قدم ہے۔ تو صحیح یہی ہے کہ قدم مراد ہے، کیونکہ جب تک پاؤں ٹیڑھا نہ کیا جائے، ٹخنہ سے ٹخنہ نہیں مل سکتا۔ ‘‘[1]ابو محمد عبدالجبار خطیب مسجد اہل حدیث رنگون برما کے جواب میں آخری پیرا گراف ملاحظہ ہو۔ (وقار احمد، لاہور) ج: ہمارے شیخ مفخم و استاذ مکرم حافظ عبداللہ صاحب محدث روپڑی رحمہ اللہ کا فتویٰ درست و صحیح ہے۔ [رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ لوگو! اپنی صفیں درست کرلو۔ لوگو! اپنی صفیں برابر کرلو۔ سنو! اگر تم نے صفیں سیدھی نہ کیں تو اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں میں اختلاف اور پھوٹ ڈال دے گا۔ ‘‘پھر تو یہ حالت ہوگئی کہ ہر شخص اپنے ساتھی کے ٹخنے سے ٹخنہ، گھٹنے سے گھٹنہ اور کندھے سے کندھا چپکا دیتا تھا۔ [2] [1] فتاویٰ اہلحدیث اشاعت ۲۰ ؍ اگست ۱۹۶۴؁ء جلد اول ، ص:۶۱۶ [2] ابو داؤد ؍ ابواب الصفوف ؍ باب تسویۃ الصفوف