کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 189
نماز سے بہتر ہے اور تین آدمیوں کی نماز دو آدمیوں کی نماز سے بہتر ہے اور جتنے نمازی زیادہ ہوتے ہیں وہ نماز اللہ کو اتنی ہی پیاری ہے۔‘‘] [1] ۸ ؍ ۴ ؍ ۱۴۲۴ھ س: ہمارے مولوی صاحب فرماتے ہیں کہ جو آدمی پانچوں نمازیں باجماعت اہتمام کے ساتھ ادا کرتا ہو وہ کبھی کسی مجبوری سے جماعت سے رہ جائے تو اس کے لیے دوسری جماعت کروانا جائز ہے ورنہ دوسری جماعت ہر ایک کیلیے کرواناجائز نہیں ۔ کیا یہ موقف درست ہے اور دوسری جماعت کے لیے اقامت کہنی چاہیے یا نہیں ؟ (ظفر اقبال) ج: نہیں ! کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿وَارْکَعُوْا مَعَ الرَّاکِعِیْنَ ﴾[(۱).....اور رکوع کرو رکوع کرنے والوں کے ساتھ۔ [البقرہ:۲؍۴۳]] میں حکم جماعت پانچوں نمازیں باقاعدہ اہتمام کے ساتھ باجماعت پڑھنے والوں کے ساتھ مخصوص نہیں ، بلکہ اسی حکم میں سب نمازی شامل ہیں ، خواہ باقاعدہ باجماعت پڑھنے والے ہوں ، خواہ بے قاعدہ، خواہ اہتمام کے ساتھ باجماعت پڑھنے والے ہوں ، خواہ بغیر اہتمام کے باجماعت پڑھنے والے، خواہ بلا جماعت پڑھنے والے۔ ہاں دوسری جماعت کے لیے بھی اقامت کہنی چاہیے۔ ۵ ؍ ۱۱ ؍ ۱۴۲۵ھ س: ایک مسجد میں پہلی جماعت کے بعد دوسری جماعت کرواسکتا ہے یا نہیں ؟ (شاہد سلیم ، لاہور) ج: ہاں ! کرواسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ وَارْکَعُوْا مَعَ الرَّاکِعِیْنَ ﴾[البقرۃ:۴۳][’’اور رکوع کرنے والے کے ساتھ رکوع کرو۔ ‘‘] پہلی جماعت ہوچکی ہے اب دوسری جماعت نہ کرائے تو آیت مذکورہ بالاپر عمل کیسے ہوگا؟ [ ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوچکے تو ایک آدمی آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’تم میں سے کون ہے جو اس سے (ثواب کے حصول کی) تجارت کرے؟‘‘ ایک آدمی کھڑا ہوا ، اس نے (دوبارہ) اس کے ساتھ نماز پڑھی۔ [2] صحیح بخاری میں تعلیقاً اور ابو یعلی میں موصولا ہے کہ انس رضی اللہ عنہ مسجد میں آئے تو جماعت ہوچکی تھی، انہوں نے [1] رواہ ابو داؤد والنسائی وصححہ ابن حبان بحوالہ بلوغ المرام ؍ باب صلوۃ الجماعۃ والامامۃ ؍ کتاب الصلوٰۃ النسائی ؍ کتاب الامامۃ ؍ الجماعۃ اذا کانو اثنتین ، ابو داؤد ؍ کتاب الصلاۃ ؍ باب فی فضل صلاۃ الجماعۃ [2] جامع ترمذی ؍ ابواب الصلاۃ ؍ باب ما جاء فی الجماعۃ فی مسجد قد صلی فیہ مرۃ ، ابو داؤد ؍ کتاب الصلاۃ ؍ باب فی الجمع فی المسجد مرتین