کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 187
س: ایک آدمی نے مغرب کی نماز پڑھنی ہے ، اس نے مسجد میں آکر نفل نماز شروع کردی۔ دورانِ نماز اس کو یاد آیا کہ میں نے مغرب کی نماز پڑھنی ہے۔کیا وہ اسی جگہ سے فرض کی نیت کرسکتا ہے یا نماز توڑ دے ، اگر اسی جگہ سے شروع کرے تو پچھلی نماز کو جو اس نے پڑھی ہے شمار کرے یا نہ ؟ (قاسم بن سرور) ج: دونوں صورتیں درست ہیں ، کیونکہ نفل نفل ہیں ، انہیں چھوڑ بھی سکتا ہے۔ اور نیت نماز میں تبدیل بھی کی جاسکتی ہے اور عمل ختم ہونے سے پہلے کسی وقت بھی نیت کی جاسکتی ہے (( اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ)) [1] آیا ہے۔ ہاں جن اعمال میں نیت کی ابتداء و آغاز عمل میں ہونے کی تصریح موجود ہے ان میں نیت ابتداء و آغاز عمل میں ہی ہوگی۔ [عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رات کی نماز میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں طرف کھڑا ہوا آپ نے میرا ہاتھ اپنی پیٹھ کے پیچھے سے پکڑا اور مجھے اپنی دائیں طرف کردیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگر اکیلے آدمی نے نماز شروع کی، پھر دوسرا آکر اس کے ساتھ آملا تو پہلا نمازی امامت کی نیت کرکے نماز جاری رکھے گا۔[2] اسی طرح امام بخاری نے باب قائم کیا ہے کہ نماز شروع کرتے وقت امامت کی نیت نہ ہو ، پھر کچھ لوگ آجائیں اور وہ ان کی امامت کرنے لگے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور آپ نے فرمایا:’’ کیا تمہارے پاس کھانے کے لیے کچھ ہے ؟‘‘ ہم نے عرض کیا نہیں ۔ تو آپ نے فرمایا: ’’پھر میں روزہ رکھ لیتا ہوں ۔ ایک دن آپ پھر تشریف لائے تو ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے پاس حلوے کا تحفہ آیا ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے بھی دکھاؤ(آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) میں نے تو روزہ رکھا ہوا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھا لیا۔ [3]اس سے معلوم ہوا کہ نفلی روزہ کی نیت دن کو بھی کی جا سکتی ہے بشرطیکہ طلوع فجر کے بعد سے روزہ کی نیت کرنے تک کچھ کھایا پیا نہ ہو اور نہ کسی اور ایسی چیز کو استعمال کیا ہو جس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور فرضی روزہ کی نیت رات کو کرنا لازمی ہے۔]۷ ؍ ۷ ؍ ۱۴۲۳ھ س: ایک شخص نے چند سالوں سے باقاعدگی سے نماز (پانچوں وقت کی) ادا کرنی شروع کی۔ اسی طرح [1] صحیح بخاری؍بدء الوحی ؍باب کیف کان بدء الوحی۔ صحیح مسلم ؍ الامارۃ ؍باب قولہ صلی ا للّٰه علیہ وسلم انما الاعمال بالنیۃ [2] بخاری ؍ الأذان ؍ باب اذا قام الرجل عن یسار الامام وحوَّلہ الامام الی یمینہ تمت صلاتہ ، مسلم ؍ صلاۃ المسافرین باب الدعاء فی صلاۃ اللیل [3] مسلم؍الصیام؍ باب جواز صوم النافلۃ بنیۃ من النھار