کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 186
غیر محفوظ)) [آثار السنن ، ص:۹۰] (طاہر ندیم) ج: پھر نہ مخفی رہے تجھ پہ کہ علامہ محمد حیات سندھی نے رسالہ فتح العفور میں کہا کہ زیادت ’’ تحت السرہ ‘‘ کے ثبوت میں نظر ہے بلکہ یہ غلط ہے، جس کا منشا سہو ہے، کیونکہ میں نے مصنف کے ایک صحیح نسخہ کی طرف مراجعت کی تو میں نے اس میں اس حدیث کو دیکھا اسی سند کے ساتھ اور انہی الفاظ کے ساتھ، مگر اس میں ’’ تحت السرہ‘‘ کے لفظ نہیں ہیں ۔ میں کہتا ہوں انصاف یہ ہے کہ یہ زیادت اگرچہ صحیح ہے بوجہ مصنف کے اکثر نسخوں میں موجود ہونے کے لیکن وہ ثقہ راویوں کی روایات کے خلاف ہے۔ لہٰذا وہ غیر محفوظ اور شاذ ہے۔ ۷ ؍ ۱ ؍ ۱۴۲۱ھ س: ایک نمازی جماعت میں اس وقت شامل ہوتا ہے جب ایک رکعت پڑھی گئی ہے ، وہ تین رکعتیں امام کے ساتھ پڑھتا ہے، ابھی تشہد ہی میں ہوتے ہیں ، اس کا وضو ٹوٹ جاتا ہے ، وہ وضو کرنے جاتا ہے تو آنے سے پہلے نماز مکمل ہوچکی ہے ، اب وہ نماز کس طرح ادا کرے گا؟ ایک نمازی رکوع بھول جاتا ہے اور ایک نمازی ایک سجدہ کرتا ہے اور دوسرا سجدہ بھول جاتا ہے کیا سجدہ سہو سے ان کی نماز پوری ہوجائے گی؟ (محمد یونس شاکر ، نوشہرہ ورکاں ) ج: سلام پھیرنے سے پہلے پہلے کسی وقت بھی وضوء ٹوٹ جائے تو نماز ابتداء سے پڑھی جائے گی، بناء والی کوئی ایک روایت بھی ثابت نہیں ۔ جس رکعت کا رکوع یا سجدہ بھول کر رہ گیا ہے وہ رکعت دوبارہ پڑھے اور سلام پھیرنے کے بعد سہو کے دو سجدے کرے۔ [ ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کی نماز قبول نہیں ہوتی یہاں تک کہ رکوع اور سجدے میں اپنی پیٹھ سیدھی کرے۔ [1] جب رکوع اور سجدہ میں اطمینان نہ ہوگا تو نماز نہ ہوگی اور جب رکوع اور سجدہ ہی نہ ہو تو بالاولیٰ نماز نہ ہوگی۔ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھائی اور تین رکعات پڑھ کر سلام پھیر دیا اور گھر تشریف لے گئے۔ ایک صحابی خرباق رضی اللہ عنہ اٹھ کر آپ کے پاس گئے اور آپ کے سہو کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیزی سے لوگوں کے پاس پہنچے اور خرباق رضی اللہ عنہ کے قول کی تصدیق چاہی، لوگوں نے کہا خرباق سچ کہتا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رکعت پڑھی، پھر سلام پھیرا اور پھر دوسجدے کیے ، پھر سلام پھیرا۔ ] [2] ۱۴ ؍ ۱۱ ؍ ۱۴۲۲ھ [1] ابو داؤد ؍ الصلاۃ ؍ باب صلاۃ من لا یقیم صلبہ فی الرکوع والسجود ، ترمذی ؍ الصلاۃ ؍ باب من لا یقیم صلبہ فی الرکوع والسجود [2] صحیح مسلم ؍ المساجد ؍ باب السھو فی الصلاۃ