کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 184
سجدے کرکے اور تشہد پڑھ کر سلام پھیرا، پھر خطبہ دیا، جس میں اللہ کی تعریف اور ثناء کی اور فرمایا۔ سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ۔ کسی کے مرنے یا پیدا ہونے سے ان کو گرہن نہیں لگتا۔ جب تم گرہن دیکھو تو اللہ سے دعا کرو۔ تکبیر کہو ، نماز پڑھو اور صدقہ کرو۔ (دورانِ نماز) دیوار میں میں نے جنت دیکھی، اگر میں اس میں سے ایک انگور کا خوشہ لے لیتا ، تو تم رہتی دنیا تک اس میں سے کھاتے اور میں نے دوزخ دیکھی۔ اس سے بڑھ کر ہولناک منظر میں نے کبھی نہیں دیکھا اور میں نے جہنم میں زیادہ تعداد عورتوں کی دیکھی، کیونکہ وہ خاوند کا کفران نعمت کرتی ہیں ، اگر تو ایک مدت تک ان کے ساتھ نیکی کرتا رہے ، پھر ان کی مرضی کے خلاف کوئی کام کرے ، تو کہتی ہیں کہ میں نے تجھ سے کبھی بھلائی نہیں دیکھی۔ ] [1] س: مسجد میں باجماعت نماز ادا کی جارہی تھی، کسی بچے نے مسجد کا دروازہ بند کردیا، باہر سے آدمی آکر دروازہ کھٹکھٹاتا ہے ، ایک نمازی نماز توڑ کر دروازہ کھول دیتا ہے اور پھر نماز میں شامل ہوجاتا ہے، جب اس نے یہ کام کیا تو یہ نماز کی آخری رکعت تھی، کیا وہ امام کے ساتھ ہی سلام پھیردے یا پہلے والی نماز پھر لوٹائے؟ (محمد یونس شاکر ، نوشہرہ ورکاں ) ج: اس صورت میں پہلے والی نماز پھر لوٹائے، کیونکہ نماز کو اس نے جان بوجھ کر توڑا ہے اور نماز فرض ہے۔ [(( عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی ا للّٰه عنہ اَنَّ الْمُسْلِمِیْنَ بَیْنَمَا ھُمْ فِی الْفَجْرِ یَوْمَ الْاِثْنَیْنِ وَاَبُوْبَکْرٍ رضی اللّٰه عنہ یُصَلِّیْ بِھِمْ فَفَجَاَھُمُ النَّبِیُّ صلی ا للّٰه علیہ وسلم قَدْ کَشَفَ سِتْرَ حُجْرَۃِ عَائِشَۃَ رضی ا للّٰه عنہا فَنَظَرَ اِلَیْھِمْ وَھُمْ صُفُوْفٌ فَتَبَسَّمَ یَضْحَکُ فَنَکَصَ اَبُوبَکْرٍ رضی ا للّٰه عنہ عَلٰی عَقِبَیْہِ وَظَنَّ أَنَّ رَسُوْلَ ا للّٰه صلی ا للّٰه علیہ وسلم یُرِیْدُ اَنْ یَخْرُجَ اِلَی الصَّلوٰۃِ وَھَمَّ الْمُسْلِمُوْنَ اَنْ یَفْتَتِنُوْا فِیْ صَلوٰتِھِمْ فَرْحًا بِالنَّبِیِّ صلی ا للّٰه علیہ وسلم حِیْنَ رَاَوْہُ وَاَرْخَی السِّتْرَ وَتُوْفِّیَ ذَالِکَ الْیَوْمَ صلی ا للّٰه علیہ وسلم )) ’’مجھے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ پیر کے روز مسلمان ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں فجر کی نماز پڑھ رہے تھے کہ اچانک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ سے پردہ ہٹائے ہوئے دکھائی دیئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم صف باندھے کھڑے ہوئے ہیں ۔ یہ دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھل کر مسکرادیئے۔ ابوبکررضی اللہ عنہ الٹے پاؤں پیچھے ہٹے۔ انہوں نے سمجھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے تشریف لائیں گے اور مسلمان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر اس درجہ خوش ہوئے کہ نماز ہی توڑ ڈالنے کا ارادہ کرلیا۔ لیکن آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم [1] بخاری ؍ الکسوف ؍ باب صلاۃ الکسوف جماعۃ ، مسلم ؍ الکسوف ؍ باب ماعرض علی النبی صلی ا للّٰه علیہ وسلم فی صلاۃ الکسوف من امر الجنۃ والنار