کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 183
یَنْتَھِیَنَّ اَقْوَامٌ عَنْ رَفْعِھِمْ اَبصَارَھُمْ عِندَ الدُّعَائِ فِی الصَّلاَۃِ اِلَی السَّمَائِ ، اَوْ لَتُخْطَفُنَّ اَبْصَارُھُمْ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ۔ وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی ا للّٰه عنہ قَالَ: اِنَّ رَسُوْلَ ا للّٰه صلی ا للّٰه علیہ وسلم کَانَ یَلْحَظُ فِی الصَّلاَۃِ یَمِیْنًا وَشِمَالاً وَلاَ یَلْوِیْ عُنُقَہٗ خَلْفَ ظَھْرِہٖ۔ رَوَاہُ التِّرْمَذِیُّ وَالنَّسَائِیُّ۔ وَعَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ ا للّٰه صلی ا للّٰه علیہ وسلم : اُقْتُلُوا الْاَسْوَدَیْنِ فِی الصَّلاَۃِ الحَیَّۃَ وَالْعَقْرَبَ۔ رَوَاہُ اَحْمَدُ ، وَاَبُو دَاؤدَ ، وَالتِرمَذِیُّ ، وَلِلنَّسَائِیُّ مَعْنَاہُ۔ وَعَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ ا للّٰه صلی ا للّٰه علیہ وسلم یُصَلِّیْ تَطَوُّعًا وَالْبَابُ عَلَیْہِ مُغْلَقٌ ، فَجِئْتُ ، فَاسْتَفْتَحْتُ فَمَشَی ،فَفَتَحَ لِیْ ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَی مُصَلاَّہُ وَذَکَرَتْ اَنَّ البَابَ کَانَ فِی الْقِبْلَۃِ۔ رَوَاہُ اَحْمَدُ وَاَبُودَاؤدَ ، وَالتِّرْمَذِیُّ ، وَرَوَی النَّسَائِیُّ نَحْوَہٗ [1]نماز کسوف میں دیوار میں جنت و دوزخ دیکھنے والی حدیث کو بھی پیش نظر رکھیں ۔ [عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا نماز میں ادھر اُدھر دیکھنے سے پس فرمایا کہ وہ اچک لینا ہے۔ اس کو شیطان بندے کی نماز سے۔ [روایت کیا اس کو بخاری اور مسلم نے۔] ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا البتہ باز رہیں لوگ اٹھانے نگاہ اپنی کے سے وقت دعا کے نماز میں طرف آسمان کی یا اچکی جاویں گی آنکھیں ان کی۔ [روایت کیا اس کو مسلم نے۔] ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہا تحقیق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ آنکھوں سے دیکھتے نماز میں دائیں اور بائیں اور نہ پھیرتے تھے گردن اپنی پیچھے پیٹھ اپنی کے۔ [روایت کیا اس کو نسائی اور ترمذی نے۔] ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مارو دو کالوں کو نماز میں مراد دو کالوں سے سانپ اور بچھو ہیں ۔ (روایت کیا اس کو احمد نے اور ابوداؤد اور ترمذی نے اور نسائی نے معنی اس کے)] عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے نماز پڑھتے نفل اور دروازہ ان پر بند ہوتا پس میں آتی اور کھلواتی حضرت چلتے اور کھول دیتے میرے لیے پھر پھرتے جگہ نماز اپنی کی طرف اور ذکر کیا عائشہ نے یہ کہ دروازہ جانب قبلہ کے تھا۔ [روایت کیا اس کو ابو داؤداور ترمذی نے اور روایت کیا نسائی نے مانند اس کے۔] عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن ہوا آپ نے باجماعت دو رکعتیں نماز پڑھی آپ نے سورہ بقرہ تلاوت کرنے کی مقدار کے قریب لمبا قیام کیا ، پھر لمبا رکوع کیا، پھر سر اٹھا کر لمبا قیام کیا ، پھر پہلے رکوع سے کم لمبا رکوع کیا، پھر دو سجدے کیے ، پھر کھڑے ہوکر لمبا قیام کیا، پھر دو رکوع کیے، پھر دو [1] مشکاۃ المصابیح ؍ کتاب الصلاۃ ؍ باب مالا یجوز من العمل فی الصلاۃ وما یباح عنہ