کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 181
کالعدم متصور ہو گی۔ اس بارے میں راجح مذہب کیا ہے؟ (وقار احمد ، لاہور) ج: ہمارے شیخ مفخم و استاذ مکرم حافظ عبداللہ صاحب محدث روپڑی رحمہ اللہ تعالیٰ کا فتویٰ درست و صحیح ہے۔ ۲۹؍۸؍۱۴۲۳ھ [مولانا عبداللہ محدث روپڑی فرماتے ہیں : دو سجدوں میں سے ایک سجدہ رہ جائے تو جس رکعت میں رہا ہے وہاں سے نماز شروع کرے۔ جس کی صورت یہ ہے کہ ایک سجدہ پہلے ہو چکا ہے ایک اور کر کے اس کے بعد کی رکعتیں پڑھ لے ،پھر اخیر میں التحیات کے بعد سلام سے پہلے یا بعد سجدہ سہو کرے کیونکہ دونوں سجدے رکن ہیں ایک چھوٹنے سے نماز نہیں ہوتی۔][1] س: تلاوت کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نماز یا غیر نماز میں آئے تو کیا حکم ہے؟ (قاسم بن سرور) ج: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (( رَغِمَ اَنْفُ رَجُلٍ ذُکِرْتُ عِنْدَہُ فَلَمْ یُصَلِّ عَلَیَّ…)) [رسوا ہو وہ آدمی جس کے سامنے میرا نام لیا جائے اور وہ درود نہ پڑھے ، رسوا ہو وہ آدمی جس نے رمضان کا پورا مہینہ پایا اور وہ اپنے گناہ نہ بخشوا سکا ، رسوا ہو وہ آدمی جس کے سامنے اس کے ماں باپ بڑھاپے کی عمر کو پہنچیں اور وہ ان کی خدمت کر کے جنت میں داخل نہ ہوا۔ ] [2]الحدیث۔ نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (( اَلْبَخِیْلُ الَّذِیْ مَنْ ذُکِرْتُ عِنْدَہٗ فَلَمْ یُصَلِّ عَلَیَّ)) [’’جس کے سامنے میر انام لیا جائے اور وہ درُود نہ پڑھے تو وہ بخیل ہے۔‘‘][3] قال الترمذی ھٰذا حدیث حسن صحیح غریب) اہل علم جانتے ہیں کلمہ فاء تعقیب بلا مہملہ کے لیے استعمال ہوتا ہے جس کا تقاضا ہے کہ فوراً ’’اللھم صلی علیہ ‘‘ یا ’’صلی ا للّٰه علیہ ‘‘ کہہ لے ۔ ۷؍۷؍۱۴۲۴ھ س: قرآن پڑھتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نام آتا ہے کیا وہاں درُود پڑھنا چاہیے ؟ جب حالت نماز میں ہوں اور جب حالت نماز میں نہ ہوں ۔ دونوں حالتوں کے بارے میں بتائیں ۔ (محمد صارم بن سیف اللہ) ج: درُود والی احادیث کا عموم دلالت کرتا ہے کہ دونوں حالتوں میں درست ہے۔ ۲۴؍۴؍۱۴۲۴ھ س: کیا ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ سے پہلے بسم اللہ اور بسم اللہ سے پہلے اعوذباللّٰہ پڑھنا چاہیے یا نہیں ؟ جواب مدلل دیں ۔ (محمد عثمان) [1] تنظیم اہلحدیث ، جلد:۱۸؍ش:۱۹، بحوالہ فتاوٰی علمائے حدیث ، باب الرکوع والسجود [2] صحیح سنن الترمذی للألبانی الجزء الثالث، رقم الحدیث:۲۸۱ [3] صحیح سنن ترمذی للألبانی رقم الحدیث:۲۸۱۱