کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 180
[ ’’اپنے پروردگار کو گڑ گڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے پکارو یقینا وہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘] ہاں جن ادعیہ کا جہر کتاب و سنت سے ثابت ہے وہ جہراً ہی ہوں گی۔ ۱۶؍۱۲؍۱۴۲۳ھ س: احناف کے نزدیک نماز کی نیت زبان سے فرض ہے یا غیر فرض؟ (حافظ محمد فاروق تبسم) ج: یہ احناف سے پوچھیں ، ہمیں تو اتنا معلوم ہے کہ زبان سے نیت کرنا نہ لغت ہے نہ شریعت ۔ کیونکہ نیت کی تعریف کی گئی ہے ۔ (( الارادۃ المتوجھۃ نحو الفعل لا بتغاء مرضاۃ اللّٰه و امتثال حکمہ)) (فتح الباری) [’’اللہ کے حکم پر عمل کرنے کے لیے اوراس کی رضا تلاش کرنے کے لیے کسی کام کی طرف توجہ کا مرکوز ہونا‘‘] اور معلوم ہے کہ ارادہ دل کے ساتھ ہوتا ہے نہ کہ زبان کے ساتھ ۔ ۲؍۳؍۱۴۲۱ھ س: ایک آدمی کو جوڑوں کا درد ہے ، جب وہ بیٹھ کر اُٹھتا ہے تو بہت تکلیف ہوتی ہے ، اس کے منہ سے خود بخود نکل جاتا ہے یا اللہ رحم فرما! اب اس کی یہ عادت بن چکی ہے کہ جب بھی بیٹھ کر اُٹھتا ہے اس کے منہ سے یہ لفظ نکل جاتے ہیں ، اسی طرح بعض دفعہ نماز کی حالت میں بھی اس سے یہی کلمہ ادا ہو جاتا ہے کیا اس کی نماز صحیح ادا ہو جائے گی؟ (محمد یونس شاکر) ج: سہواً نکلے تو درست ہے ۔ ویسے عمداً بھی کسی وقت یہ کلمہ نکل جائے تو یہ کلام الناس میں شامل نہیں ۔ ۳۰؍۴؍۱۴۲۴ھ س: نماز میں اگر کوئی بات یاد آ جائے مثلاً کسی سے ملنا ، کسی سے لین دین کرنا ، کسی سے کوئی ضروری بات پوچھنا ، تو کیا ان باتوں کو ذہن نشین کرے یا نماز کی طرف توجہ کرے؟(حامد رشید) ج: نہیں ! ان کے پیچھے نہ پڑھے ، توجہ نماز کی طرف مبذول کرلے ۔ [(( قَالَ مَا الْاِحسَانُ ، قَالَ أَنْ تَعْبُدَ ا للّٰه کَاَنَّکَ تَرَاہُ فَاِن لَّمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَاِنَّہٗ یَرَاکَ)) ’’آپ نے فرمایا: احسان یہ ہے کہ تو اپنے رب کی عبادت اس انداز سے کرے کہ تو اسے دیکھ رہا ہے ، اگر ایسے نہیں تو پھر یہ (تصور کر) کہ وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔ ] [1] ۲۹؍۴؍۱۴۲۴ھ س: نماز میں کوئی فرض چیز سہواً رہ گئی تو بعض فقہاء کے نزدیک ناقص رکعت کی جگہ مزید رکعت پڑھ لے ، جبکہ محدث روپڑی کہتے ہیں کہ جس رکعت سے فرض ترک ہوا ہے وہاں سے تمام نماز دوبارہ پڑھے بعد والی نماز [1] بخاری؍ الإیمان ؍ باب سوال جبریل النبی صلي اللّٰه عليه وسلم عن الایمان والاسلام والاحسان و علم الساعۃ