کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 179
سلام کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: وعلیکم السلام جا پھر نماز پڑھ کیونکہ تو نے نماز نہیں پڑھی۔ اس شخص نے تیسری یا چوتھی بار( بے قاعدہ) نماز پڑھنے کے بعد کہا کہ آپ مجھے سکھا دیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تو نماز کے ارادے سے اُٹھے تو پہلے خوب اچھی طرح وضو کر ، پھر قبلہ رُخ کھڑا ہو کر تکبیر تحریمہ کہہ ، پھر قرآن مجید میں سے جو تیرے لیے آسان ہو پڑھ ، پھر رکوع کر یہاں تک کہ اطمینان سے رکوع کر ، پھر سر اُٹھا یہاں تک کہ سیدھا کھڑا ہو جا ، پھر سجدہ کر یہاں تک کہ اطمینان سے اپنا سر اُٹھا اور بیٹھ جا ، پھر سجدہ کر یہاں تک کہ اطمینان سے سجدہ کر ، پھر اپنا سر اُٹھا اور سیدھا کھڑا ہو جا ، پھر اس طرح اپنی نماز پوری کر۔][1] اس مضمون کی مزید احادیث فتح الباری اور تحفۃ الأحوذی میں دیکھ سکتے ہیں ۔فرض ، واجب اور سنت کی تعریف میں کوئی آیت یا حدیث مجھے نہیں ملی۔ ۱۶؍۱۲؍۱۴۲۳ھ س: تعوذ و بسم اللہ کو با آواز بلند نہ پڑھنے سے نماز میں کوئی خلل واقع ہو گا یا نہیں ؟ کتاب و سنت سے واضح فرمائیں ۔ (عبدالصمد بلوچ) ج: نہیں ! کوئی خلل واقع نہیں ہو گا کیونکہ تعوذ کا نماز میں جہراً پڑھنا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہی نہیں اور بسملہ کے متعلق دونوں قسم کی احادیث ملتی ہیں سراً پڑھنے والی بھی اور جہراً پڑھنے والی بھی۔ تفصیل کے لیے تحفۃ الأحوذی اور مرعاۃ المفاتیح کا مطالعہ فرمائیں ۔ [انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابو بکر ، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے پیچھے نماز پڑھی ، وہ بلند آواز سے بسم اللہ الرحمن الرحیم نہیں پڑھتے تھے۔ [2] نعیم مجمر نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی ، وہ کہتے ہیں کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھی ، پھر سورۂ فاتحہ پڑھی۔ (یعنی جہر سے) ] [3] ۱۶؍۱۲؍۱۴۲۳ھ س: امام و مقتدی کا جہری نمازوں میں سبحانک اللھم یا اس کے علاوہ افتتاحی دعا کو سراً پڑھنا کس حدیث سے ثابت ہے؟(عبدالصمد بن موج علی) ج: ذکر کے متعلق اصول قرآن مجید میں سورۃ الأعراف آیت ۲۰۵ میں ہے اور دعاء کے متعلق وہی ذکر والا اصول ہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿اُدْعُوْا رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَۃً إِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ﴾ [الأعراف:۵۵] [1] بخاری؍الاذان ؍باب امر النبي صلى اللّٰه عليه و آله وسلم الذی لا یتم رکوعہ بالاعادۃ ۔ مسلم ؍الصلاۃ؍ باب وجوب قرا ء ۃ الفاتحۃ فی کل رکعۃ [2] مسلم؍الصلاۃ؍باب حجۃ من قال لا یجھر بالبسملۃ [3] نسائی؍ابن خزیمہ ؍ بحوالہ بلوغ المرام