کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 178
موحدۃ ساکن اور عین مہملہ پر کسرہ ہے ۔ مالک بن حویرث: نام مالک ، حویرث کے بیٹے اور لیث گھرانے کے شخص ہیں ۔ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، بیس روز قیام پذیر رہے اور پھر بصرہ میں سکونت اختیار کر لی ان سے ان کے صاحبزادے عبداللہ اور ابو قلابہ وغیرہ نے روایت کی ۔ ۹۴ھ میں بمقام بصرہ انتقال کیا ۔ ابو محذورہ: یہ ابو محذورہ ہیں ۔ ان کا نام سمرہ ہے۔ معبرہ کے بیٹے ہیں ، معبرہ میں میم مکسور ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ ان کا نام اوس بن معیر ہے ۔ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مکہ میں مؤذن تھے۔۵۹ھ میں انتقال کیا ۔ انہوں نے ہجرت نہیں کی اور وفات تک مکہ میں مقیم رہے۔] ۱۵؍۷؍۱۴۲۳ھ س: تکبیر تحریمہ فرض ، واجب یا سنت ہے؟ کیا فرض واجب یا سنت کی قید و تعریف میں کوئی حدیث یا آیت وارد ہوئی ہے ، اگر ہوئی ہے تو درج فرمائیں ورنہ یہ قیدیں کیسی ہیں ؟ (عبدالصمد بن موج علی) ج: خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر تحریمہ کہا کرتے تھے۔ [’’ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، آپ نے نماز کی پہلی تکبیر کہی اور اپنے دونوں ہاتھ کندھوں تک اُٹھائے۔‘‘][1]رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (( تَحْرِیْمُھَا التَّکْبِیْرُ ، وَتَحْلِیْلُھَا التَّسْلِیْمُ)) [’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز کی تحریم (دنیاوی اُمور کو حرام کرنے والی) تکبیر (اللہ اکبر کہنا) ہے اور اس کی تحلیل (دنیاوی اُمور کو حلال کرنے والی) تسلیم (نماز سے سلام پھیرنا) ہے۔‘‘][2] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیئی الصلاۃ کو تکبیر تحریمہ کہنے کا حکم دیا تھا۔ [ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے کونے میں تشریف فرما تھے ، اس شخص نے نماز پڑھی (اور رکوع ، سجود ، قومے اور جلسے کی رعایت نہ کی اور جلدی جلدی نماز پڑھ کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو سلام کیا ، آپ نے فرمایا:’’ وعلیکم السلام واپس جا پھر نماز پڑھ ، اس لیے کہ تو نے نماز نہیں پڑھی ۔‘‘ وہ گیا ،پھر نماز پڑھی( جس طرح پہلے بے قاعدہ پڑھی تھی) پھر آیا اور [1] بخاری؍الاذان ؍باب الی این یرفع یدیہ [2] ابو داؤد؍کتاب الطہارۃ؍ باب فرض الوضوء؍ابن ماجہ ؍کتاب الطہارۃ؍باب مفتاح الصلاۃ۔ ترمذی؍ابواب الصلاۃ؍باب ما جاء فی تحریم الصلاۃ و تحلیلھا