کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 175
کے ستون بھی سترہ کا کام دیتے ہیں ۔ امام بخاری بَابُ قَدْ رُکُمْ یَنْبَغِیْ اَنْ یَکُوْنَ بَیْنَ المُصَلّٰی وَالسُّتْرَۃِ [’’ نمازی اورسترہ میں کتنا فاصلہ ہونا چاہیے‘‘]میں حدیث لائے ہیں : ((عَنْ سَھْلِ بْن سَعْدٍ قَالَ : کَانَ بَیْنَ مُصَلّٰی رَسُوْلِ ا للّٰه صلی ا للّٰه علیہ وسلم ، وَبَیْنَ الجِدَارِ مَمَرُّ الشَّاۃِ)) [’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سجدہ کرنے کی جگہ اور دیوار کے درمیان ایک بکری کے گزر سکنے کے فاصلہ کے برابر جگہ تھی۔‘‘] دوسری حدیث لائے ہیں : ((عَنْ سَلَمَۃَ قَالَ : کَانَ جِدَارُ الْمَسْجِدِ عِنْدَ الْمِنْبَرِ مَا کَادَتِ الشَّاۃُ تَجُوْزُھَا[’’ مسجد کی دیوار اور منبر کے درمیان بکری کے گزرسکنے کے فاصلہ کے برابر جگہ تھی۔‘‘]اور بَابُ الصَّلَاۃِ إلَی الْاُسْطُوَانَۃ میں حدیث لائے ہیں : نَا یَزِیْدُ بْنُ عُبَیْدٍ قَالَ : کُنْتُ آتِیْ مَعَ سَلَمَۃَ بْنِ الْاَکْوَع ، فَیُصَلِّیْ عِنْدَ الْاُسْطُوَانَۃِ الَّتِیْ عِنْدَ الْمُصْحَفِ ، فَقُلْتُ : یَا اَبَا مُسْلِمٍ اَرَاکَ تَتَحَرَّی الصَّلَاۃَ عِنْدَ ھٰذِہِ الْاُسْطُوَانَۃِ ، قَالَ : فَاِ نِِّی رَاَیْتُ النَّبِیَّ صلی ا للّٰه علیہ وسلم یَتَحَرَّی الصَّلَاۃَ عِنْدَھَا[’’ یزید بن ابی عبید نے بیان کیا کہا کہ میں سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کے ساتھ (مسجد نبوی میں ) حاضر ہوا کرتا تھا۔ سلمہ رضی اللہ عنہ ہمیشہ اس ستون کو سامنے رکھ کر نماز پڑھتے جہاں قرآن شریف رکھا رہتا تھا۔ میں نے ان سے کہا : اے ابو مسلم! میں دیکھتا ہوں کہ آپ ہمیشہ اسی ستون کو سامنے کر کے نماز پڑھتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاص طور پر اسی ستون کو سامنے کر کے نماز پڑھا کرتے تھے۔ ‘‘]دوسری حدیث لائے ہیں : عَنْ اَنَس بْنِ مَالِکٍ قَالَ : لَقَدْ أَدْرَکْتُ کِبَارَ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صلی ا للّٰه علیہ وسلم یَبْتَدِرُوْنَ السَّوَارِیَ عِنْدَ الْمَغْرِب، وَزَادَ شُعْبَۃُ عَنْ عَٰمْرٍ و عَنْ أَنَسٍ حَتّٰی یَخْرُجَ النَّبِیُّ صلی ا للّٰه علیہ وسلم))[’’ انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بڑے بڑے صحابہ کو دیکھا کہ وہ مغرب کے وقت ستونوں کی طرف لپکتے۔‘‘ ] پھر غور فرمائیں نمازی کے سامنے اور آگے سے گزرنا جرم و گناہ ہے اور اس جرم اور گناہ سے بچنے کے لیے شریعت میں طریقہ یہی ہے کہ نمازی کے آگے سے نہ گزرے یا پھر سترہ کے آگے سے گزرے ، سترہ اور نمازی کے درمیان سے نہ گزرے شریعت نے اس جرم و گناہ سے بچنے کے اس طریقہ کو عام رکھا ہے کہیں بھی اس کو غیر مسجد کے ساتھ مخصوص نہیں فرمایا۔ ۲۲؍۶؍۱۴۲۳ھ