کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 173
س: مؤذن بہت ضعیف ہو چکا ہے کھڑا ہو کر اذان دینا اس کے لیے مشکل ہے ۔ کیا بیٹھ کر لاؤڈ سپیکر کے سامنے اذان اور اقامت کہہ سکتا ہے یا نہیں ؟ (طارق سعید) ج: کہہ سکتا ہے ۔ اذان و اقامت میں قیام نماز میں قیام سے زیادہ اہم تو نہیں ؟ ۱۶؍۲؍۱۴۲۳ھ س: ایک حدیث میں ہے :’’نہ کوئی اذان دے مگر وہ جو با وضو ہو۔‘‘ [1]یہ حدیث صحیح ہے یا حسن یا ضعیف ہے؟(محمد صارم بن سیف اللہ) ج: ترمذی والی سند میں تین نقص ہیں : ولید بن مسلم کی تدلیس ، معاویہ بن یحییٰ صدفی کا ضعف اور زہری ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ۔ لہٰذا یہ روایت ضعیف و کمزور ہے ۔ قابل احتجاج و استدلال نہیں ۔ ۲۴؍۴؍۱۴۲۴ھ س: کیا اذان وضو کے بغیر دی جا سکتی ہے ؟ (محمد صارم سیف) ج: ہاں ! وضوء کے بغیر اذان دی جا سکتی ہے کیونکہ اذان کے لیے وضوء کا ضروری ہونا قرآن مجید کی کسی آیت کریمہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی صحیح حدیث میں نہیں آیا ۔ پھر دیکھیں قرآن مجید کی تلاوت بغیر وضوء درست ہے تو اذان بلا وضوء کیوں نہیں دی جا سکتی؟ ۲۵؍۳؍۱۴۲۴ھ س: اگر کوئی مؤذن صبح کی اذان میں الصلوٰۃ خیر من النوم بھول کر یا جان بوجھ کر نہ کہے تو اس سے اذان میں کیا خرابی آئے گی؟(عبدالستار ، نارووال) ج: بس خرابی یہی ہے کہ ’’الصلاۃ خیر من النوم ‘‘ کلمہ اذان سے رہ گیا ہے۔ ۲۱؍۲؍۱۴۲۴ھ سترہ کا بیان س: نمازی کے آگے بیٹھا ہوا آدمی جسے نمازی نے سترہ بنا رکھا ہے اگر اُٹھ کر چلا جائے تو کیا نمازی سترے کے حصول کے لیے آگے یا دائیں بائیں چل سکتا ہے؟ اور اگر چل سکتا ہے تو کتنی صفوں تک چل سکتا ہے؟ نیز کیا سترہ واجب ہے یا مستحب؟ (محمد ہاشم بن نذیر احمد ، فیصل آباد) ج: نہیں چل سکتا ۔ مستحب ہے۔ [عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : میں آئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں مصروف تھے اور دروازہ بھی بند تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (حالتِ نماز میں ) چلے حتی کہ دروازہ کھول کر پھر اپنی جگہ واپس لوٹ گئے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں [1] ترمذی؍ أبواب الصلاۃ؍باب ما جاء فی کراھیۃ الأذان بغیر وضوء